یہ ممکن نہیں کہ بلوچستان میں انتشار ہو اور ملک اس سے محفوظ رہے ،شاہد خاقان عباسی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عیسیٰ ترین)سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نےکہا ہے کہ ہمارے دورے کا مقصد سیاسی مفاد حاصل کرنا نہیں تھا ،یہ ممکن نہیں کہ بلوچستان میں انتشار ہو اور ملک اس سے محفوظ رہے ، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ مسائل حل کریں ۔تاریخ کا سبق بہت تلخ ہے ۔
تفصیلات کے مطابق عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہموجودہ حالات کا جائزہ لینے آئیں ہیں ۔یہ ممکن نہیں کہ بلوچستان میں انتشار ہو اور ملک اس سے محفوظ رہے ۔طلباء سیاسی رہنماؤں سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے ملاقات کی اور مسائل سمجھنے کی کوشش کی۔ملکی انتشار نے بلوچستان کو بھی اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے ۔جب تک یہ انتشار ختم نہیں ہوتا ملک معاشی ترقی نہیں کرسکتا۔دہشتگردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اس کی وجوہات کا خاتمہ بھی ناگزیر ہے ۔جب تک ہم آئین نے انحراف کرتے رہینگے مسائل بڑھتے رہیں گے ۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ریاست جب تک شہریوں کو بنیادی حقوق نہیں ملتے انتشار رہیگا۔جب تک ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔وزیراعظم کی ذمہ داری ہے کہ آئین کا تحفظ اس کے حلف میں شامل ہے۔آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ بلوچستان کے حالات کو سمجھیں ۔بلوچستان کا نوجوان وہ ہی بات کررہا ہے جو ملک کے دیگر صوبے کے نوجوان کررہے ہیں ۔جو ملک بنیادی حقوق فراہم نہیں کرسکے وہ آگے نہیں جاسکتا ۔ملکی حالات بنیادی حقوق فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے ہے ۔تاریخ کا سبق بہت تلخ ہے ۔ہمارے دورے کا مقصد عوام کو بنیادی حقوق فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی جرنیل کی بے توقیری، اہم عہدہ سے فارغ کرکے کالا پانی بھیج دیا