سینیٹ قائمہ کمیٹی صحت کا اجلاس؛نرم کیلئے مختص بجٹ کے استعمال کی تفصیلات طلب
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد ترک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، وزارت صحت کے حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، اجلاس کے دوران نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن (نرم) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 1998 میں ہسپتال کے قیام کے وقت اسلام آباد کی آبادی تقریباً 19 لاکھ 40 ہزار تھی جو 2026 تک بڑھ کر 35 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، انہوں نے کہا کہ نرم میں نہ صرف اسلام آباد بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے مریضوں کو بھی علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے جبکہ آؤٹ ڈور اور ان ڈور دونوں سروسز دستیاب ہیں۔
کمیٹی کے رکن سینیٹر سید مسرور احسن نے آؤٹ ڈور سروسز کی نوعیت اور دائرہ کار سے متعلق سوالات اٹھائے اور ہسپتال کے انتظامی امور پر وضاحت طلب کی، ای ڈی نرم نے بتایا کہ ادارے کیلئے 641.879 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا جس میں سے تقریباً 70 فیصد خرچ ہو چکا ہے، اجلاس کے دوران اس انکشاف پر بھی سوالات اٹھائے گئے کہ نرم بعض مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مخصوص خدمات کے عوض فیس بھی وصول کرتا ہے، کمیٹی ارکان نے استفسار کیا کہ مریضوں سے کس بنیاد پر چارجز وصول کیے جا رہے ہیں اور اس کی تفصیلات کیا ہیں، سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ بظاہر صاحب استطاعت افراد کو سہولیات میسر آ جاتی ہیں جبکہ ضرورت مند افراد مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
ای ڈی نرم کی جانب سے دی گئی وضاحتوں پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بریفنگ کنفیوز کر رہی ہے، کمیٹی کے رکن سینیٹر ندیم احمد نے گزشتہ پانچ برسوں میں زیر علاج مریضوں کی تعداد اور گزشتہ چار برس کے دوران مختص بجٹ کے استعمال کی مکمل تفصیلات طلب کیں، کمیٹی نے ہدایت کی کہ اخراجات اور مالی امور سے متعلق جامع رپورٹ جلد پیش کی جائے، اجلاس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سرویکل کینسر ویکسین مہم کے حوالے سے بھی بریفنگ دی، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ ویکسین بڑی مشکل سے متعارف کرائی گئی تاہم مہم کے دوران بعض سکولوں اور والدین کی جانب سے ہچکچاہٹ کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان کو اس حوالے سے "گرین اسٹیٹس" دیا ہے۔
وزیر صحت نے زچہ و بچہ کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر سال تقریباً 11 ہزار خواتین حمل یا زچگی کے دوران جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جو ایک سنگین قومی مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی آگاہی کیلئے روایتی طریقوں سے ہٹ کر مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، بعد ازاں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر نے ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اکیڈمی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی درجہ بندی میں ملک کے ممتاز اداروں میں شامل ہے، انہوں نے کہا کہ اب تک ادارے کی جانب سے 398 تحقیقی جرائد شائع کیے جا چکے ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد طلبہ مختلف ڈپلومہ پروگرام مکمل کر چکے ہیں، اس موقع پر سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ صحت کے شعبے میں کامیابیوں کا ذکر کرتے وقت تمام صوبوں کی کارکردگی کو یکساں اہمیت دی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:روپیہ تگڑا؛یورو،اماراتی درہم اور سعودی ریال سستا ہو گیا