ملتان ، بینکنگ کرائم کورٹ ملتان میں 3 کروڑ 51 لاکھ کی خردبرد کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا 

Jun 02, 2025 | 19:29:PM
ملتان ، بینکنگ کرائم کورٹ ملتان میں 3 کروڑ 51 لاکھ کی خردبرد کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عمران مہر)بینکنگ کرائم کورٹ کی جج حمیرۃ الزہرا نےزرعی ترقیاتی بینک خان بیلہ( رحیم یارخان ) برانچ  میں 3 کروڑ 51 لاکھ روپے کے خرد برد کے مقدمہ کا فیصلہ سنادیا۔

سماعت کے دوران چاروں  ملزمان اور ان کے  وکیل محمد نعیم خان بھی عدالت میں موجود تھے،عدالت نے برانچ منیجر ابرار الحسنین اور مینیجر اپریشن ساجد عباس کو مجموعی طور پر 21، 21 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، اس کے علاوہ دونوں ملزمان خرد برد کردہ رقم3 کروڑ 51 لاکھ 10 ہزار 458 روپے بینک کو واپس کریں گے جو کہ فی کس ایک کروڑ 74 لاکھ 55 ہزار 229 روپے ہوں گے ۔

ملزمان کو زیر دفعہ 409 سات سال قید 50 ہزار و جرمانہ زیر دفعہ 467 سات سال قید 50 ہزار جرمانہ زیر دفعہ 468 چار سال قید 50 ہزار اور زیر دفعہ 371 تین سال قید 50 ہزار جرمانہ 30 ہزار سنائی گئی ۔ فاضل عدالت نے کیشیئر صہیب  اور ایم سی او شاہد بشیر کو بری کردیا کیونکہ ایف آئی اے ان کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کرسکا۔

دوران سماعت روز ملزمان کے وکیل محمد نعیم خان نے استغاثہ کی جانب سے16 میں سے 8 گواہان کو ترک کرنے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہاتھا کہ عارف حسین کو  زرعی ترقیاتی بنک خان بیلہ برانچ کا 22 مارچ 2023 کو منیجر مقرر کرنا اور زونل چیف حسن رضا کی بنک سٹاف سے دشمنی اس مقدمہ کی اصل وجہ ہے۔

ابرارالحسن کے خلاف مقدمہ بھی اس کے بعد درج ہوا۔ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیر مشہود چشتی جوکہ اس کیس کے انویسٹی گیشن افیسر بھی ہیں اور ان کے علاؤہ استغاثہ کے دیگر گواہان نے زیر دفعہ 342 اپنے جوابات جمع کرائے ملزم ابرار الحسنین کے وکیل محمد نعیم خان نے فاضل عدالت کو بتایا کہ یہ 2022 کا کیس ہے جو مسلسل تین سال سے چل رہا ہے ایک ملزم فوت ہو چکا ہے اب باقی چار ملزم رہ گئے ہیں  یاد رہے کہ جنوبی پنجاب کے تین ڈویژن میں بینکنگ کرائم کی ایک ہی کورٹ ہے جبکہ دوسری کورٹ اپر پنجاب کے لیے لاہور میں ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں: ملتان ، بینکنگ کرائم کورٹ ملتان میں 3 کروڑ 51 لاکھ کی خردبرد کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا