ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)عالمی منڈی میں جمعرات کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جس کی بڑی وجہ قطر کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں "مثبت پیش رفت" کی اطلاع ہے، یہ مذاکرات بدھ کے روز دوحہ میں مکمل ہوئے اور ان کا مرکزی موضوع آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت تھا۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 73 سینٹ (1.02 فیصد) کمی کے بعد 70 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 83 سینٹ (1.21 فیصد) گر کر 67 ڈالر فی بیرل پر آ گیا،اماراتی مربن خام تیل کی 64 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈنگ جاری ہے۔
گزشتہ کاروباری سیشن میں بھی دونوں عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے بعد قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے دو روز تک دوحہ میں آبنائے ہرمز سے بحری ٹریفک کی بحالی اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں سے متعلق امور پر بات چیت کی۔ اگرچہ بحری آمدورفت جزوی طور پر بحال ہو چکی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے ایک مال بردار جہاز پر ایرانی حملے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے بھی کیے تھے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے پرعزم ہے، ایران پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ ابتدائی معاہدے کے تحت دی گئی ٹول فری مدت ختم ہونے کے بعد اگست کے وسط سے جہازوں پر ٹول عائد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں مثبت پیشرفت،بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے کھلے رہنے اور خام تیل کی مسلسل فراہمی کے باعث عالمی منڈی میں سپلائی بڑھ رہی ہے، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے،اس کے ساتھ ساتھ اوپیک پلس کے رکن ممالک کے آئندہ اجلاس میں اگست کے لیے یومیہ تقریباً ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی پیداوار کی منظوری دیے جانے کا بھی امکان ہے۔
دوسری جانب امریکہ کے توانائی معلوماتی ادارے (EIA) کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں 38 لاکھ بیرل کمی ہوئی، جس کے بعد مجموعی ذخائر 408.4 ملین بیرل رہ گئے ہیں، جو ستمبر 2018 کے بعد کم ترین سطح ہے۔