ایران امریکا مذاکرات،دفتر خارجہ نے پاکستان کا کردار واضح کر دیا

پاکستان کو امید ہے وہ بامعنی مذاکرات کیلئے میز فراہم کرنے کا اعزاز حاصل کرے گا،ترجمان دفترخارجہ

Apr 02, 2026 | 17:34:PM
  ایران امریکا مذاکرات،دفتر خارجہ نے پاکستان کا کردار واضح کر دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد تُرک)دفتر خارجہ نے ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا کردار واضح کر دیا جبکہ  امریکی نائب صدر یا وفد کی پاکستان آمد کی تردید کر دی۔
ترجمان دفتر خارجہ کاکہناہےکہ پاکستان کو امید ہے وہ امریکا اور ایران کے درمیان بامعنی مذاکرات کیلئے میز فراہم کرنے کا اعزاز حاصل کرے گا جبکہ اس حوالے سے امریکی نائب صدر یا کسی وفد کی اسلام آباد آمد کی تاحال کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں۔
 ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس وقت ارمچی میں سہہ فریقی مذاکرات جاری ہیں، پاکستان کو اس بات پر اطمینان ہے کہ امریکا اور ایران دونوں پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے وفود کی آمد سے متعلق کوئی حتمی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔
 ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق متعلقہ فریقین ہی اس بات کا تعین کریں گے کہ مذاکرات میں کون شامل ہوگا اور ان کے اوقات کار کیا ہوں گے؟ انہوں نے واضح کیا کہ اس سارے عمل میں پاکستان کا کردار سہولت کاری کا ہے، پاکستان امریکا کے ساتھ انتہائی اہم تعلقات رکھتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
 ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کی بھی مذمت کی ہے جبکہ اس سے قبل ایران پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کی جا چکی ہے، کسی بھی تنازع کا جامع اور دیرپا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے، اقوام متحدہ کا چارٹر بھی عالمی امن اور استحکام کے فروغ کیلئے اسی اصول پر قائم ہے۔
 ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکی نائب صدر یا کسی اعلیٰ سطحی وفد کے دورہ اسلام آباد سے متعلق کوئی معلومات موجود نہیں  اور آئندہ پیش رفت کا انحصار متعلقہ ممالک کے فیصلوں پر ہو گا،بعد ازاں صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے متعدد سوالات کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی جانب سے کامیاب سفارتکاری کے خلاف بھارتی پروپیگنڈے کا سلسلہ جاری ہے، 4 وزرائے خارجہ نے ایران امریکہ کے اسلام آباد میں مذاکرات کی سپورٹ کی ہے، گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے فعال سفارتکاری جاری رہی، پاکستان ،سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں نشست ہوئی، 4 فریقی اجلاس کا یہ دوسرا دور تھا،اس سے قبل ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اسحاق ڈار کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کی تھیں، وزرائے خارجہ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقاتیں کیں،اس کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی بات چیت ہوئی، جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی گئی ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مسلم امت کا اتحاد ضروری ہے۔
 دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس بارے میں سوشل میڈیا پر بتایا ہے،  ایران کے اس اقدام کا خیر مقدم کرنا چاہیے، علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر دورہ چین کیا، پاکستان اور چین نے ایران امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے 5 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا ہے، پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت چین میں ہورہی ہے، پاکستان نے اپنا وفد چین کے شہر ارمچی بھیجا ہے، وفد بھیجنے کا مقصد ہے کہ افغانستان کے اندر سے دہشت گردی بند کی جائے، ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں، افغان طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے,پاکستانی وفد ابھی چین میں بات چیت کے لیے موجود ہے، واپس نہیں آیا،پاکستان کبھی بھی مذاکرات سے نہیں بھاگا، ہم افغانستان کے معاملے پر چین کے ساتھ بھی انگیج ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلوں اور تقرری میں توسیع کے احکامات جاری
 میڈیا بریفنگ میں طاہر انداربی کا مزید کہنا تھا کہ ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی سفارت کاری پر ہندوستان سے فیک نیوز کا سلسلہ جاری ہے، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سے منسوب بیان کو بھی غلط پیش کیا گیا ہے، بعد میں ایرانی وزارت خارجہ سے وضاحت جاری ہوئی، ان فیک نیوز والوں اور جھوٹ بولنے والوں سے ہوشیار رہیں۔