پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے: سرفراز سائمن

(NCJP) کے زیر اہتمام راولپنڈی میں ”بین المذاہب ہم آہنگی اور امن ہماری مشترکہ ضرورت“ کے عنوان سے  تقریب

Sep 01, 2025 | 14:34:PM
پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے: سرفراز سائمن
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

راولپنڈی (سپیشل رپورٹر)نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس (NCJP) کے زیر اہتمام سینٹ میری کیتھولک چرچ راولپنڈی میں ”بین المذاہب ہم آہنگی اور امن ہماری مشترکہ ضرورت“ کے عنوان سے  تقریب منعقد ہوئی جس میں ریورنڈ فادر سرفراز سائمن نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سماجی مسائل کے حل کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تقریب کی صدارت ریورنڈ فادر سرفراز سائمن، ریجنل ڈائریکٹر نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض طارق غوری، ریجنل کوآرڈی نیٹر نے انجام دیے۔

 تقریب سے سیدہ سعدیہ بخاری (کونسل ممبر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان)، علامہ طاہر عقیل اعوان (ممبر قرآن بورڈ پنجاب و چیئرمین پاکستان علماء کونسل پنجاب)، علامہ سید مصطفیٰ حیدر نقوی (نامور مذہبی اسکالر)، نثار کیانی (سیکرٹری اطلاعات آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی)، بھیم راج سرون بھیل (ہندو شیڈول کاسٹ کمیونٹی رہنما) اور عامر جاوید (فیلڈ اسٹاف ممبر NCJP) نے خطاب کیا۔

ریورنڈ فادر سرفراز سائمن نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سماجی مسائل کے حل کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، ایک دوسرے کے عقائد و رسومات کا احترام ہی معاشرے میں برداشت کی فضا قائم کرتا ہے،سیدہ سعدیہ بخاری نے زور دیا کہ پاکستان ایک کثیرالمذاہب اور کثیرالثقافتی ملک ہے جہاں ہر شہری کو آئین کے آرٹیکل 20 اور 25 کے تحت مساوی حقوق اور مذہبی آزادی حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کی قربانیاں قیام پاکستان کی تاریخ کا روشن باب ہیں، اور آج بھی وہ ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ہمیں امن کا بیانیہ اپنانا ہوگا کیونکہ دنیا کے تمام مذاہب امن، محبت اور رواداری کا درس دیتے ہیں،علامہ سید مصطفیٰ حیدر نقوی نے قرآن مجید کی مختلف آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے  پوری انسانیت کو مخاطب کیا ہے، انہوں نے حضرت علیؑ کا واقعہ بیان کیا کہ کس طرح انہوں نے کوفہ میں ایک غیر مسلم ضعیف شخص کی کفالت بیت المال سے کرنے کا حکم دیا، یہ فلاحی ریاست کا بہترین نمونہ ہے جو مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کی بنیاد پر قائم ہے۔

علامہ طاہر عقیل اعوان نے کہا کہ پیغامِ محبت کے بغیر کوئی بھی مذہب مکمل نہیں، انسانیت سب سے پہلی مشترک قدر ہے جسے بنیاد بنا کر ہمیں باہمی بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا،نثار کیانی نے کہا کہ مذہب انسان کے اختیار میں نہیں،کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ کسی خاص مذہب یا گھرانے میں جنم لے اس لیے مذہب کی بنیاد پر نفرت یا امتیاز سراسر ناانصافی ہے، امن کا بیانیہ ہی معاشرتی ہم آہنگی کا ضامن ہے،بھیم راج سرون بھیل نے کہا کہ بین المذاہب رواداری کا سفر جاری رہنا چاہیے کیونکہ اس سے نوجوانوں میں مختلف مذاہب کے بارے میں آگاہی بڑھتی ہے۔

عامر جاوید نے NCJP کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ کمیشن کی بنیاد 1985 میں رکھی گئی اور تب سے یہ انسانی حقوق کے فروغ، مذہبی و سماجی امتیاز کے خاتمے اور امن و رواداری کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔تقریب کے آخر میں مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم سب مل کر ایک ایسا پاکستان تعمیر کریں گے جو قائداعظم کے وژن اور آئین کے مطابق تمام شہریوں کو یکساں حقوق، آزادی اور انصاف فراہم کرے گا۔