قانون کے شعبے میں خواتین کی کامیابیوں اور جدوجہد پر بین الاقوامی کانفرنس
خواتین کو آئینی و قانونی حقوق کی فراہمی خوش آئند پیش رفت ہے،مہمان خصوصی جسٹس عائشہ اے ملک
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف) قانون کے شعبے میں خواتین کی کامیابیوں اور جدوجہد کے دس سال مکمل ہونے پر بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیاگیا جس میں سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔
خواتین میں قانون کے پلیٹ فارم کی جانب سے لاہور کےفلیٹیز ہوٹل میں ہونے والی اس کانفرنس میں ملک بھر سے سینئر وکلاء، خواتین وکلاء، قانونی ماہرین، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور عدالتی حلقوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
کانفرنس کی مہمانِ خصوصی سپریم کورٹ آف پاکستان کی معزز جج جسٹس عائشہ اے ملک نےاپنے خطاب میں قانون کے شعبے میں خواتین کی نمایاں پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو آئینی اور قانونی حقوق کی فراہمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے,خواتین وکلاء اور ججز نے اپنی محنت، قابلیت اور پیشہ ورانہ مہارت سے عدالتی نظام میں اپنا مقام بنایا ہےجو معاشرے کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
جسٹس عائشہ اے ملک نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر انصاف کی فراہمی کا نظام مکمل نہیں ہو سکتا، خواتین میں قانون جیسے پلیٹ فارمز نہ صرف خواتین وکلاء کی رہنمائی اور تربیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ قانونی شعور کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم کی بانی ندا عثمان چوہدری نے کیا، اس موقع پر ندا عثمان چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین میں قانون کا بنیادی مقصد خواتین کو قانونی، پیشہ ورانہ اور سماجی طور پر بااختیار بنانا ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران اس پلیٹ فارم نے خواتین وکلاء کے لیے تربیتی پروگرامز، سیمینارز اور کانفرنسز کے ذریعے نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔
تقریب کی میزبان ندا عثمان چوہدری اور چیئرمین لیگل ایجوکیشن کمیٹی لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن حسیب اللہ خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی معزز جج جسٹس عائشہ اے ملک کو ان کی عدالتی خدمات کے اعتراف میں اعزازی ایوارڈ پیش کیا، اس موقع پر ندا عثمان چوہدری نے خواتین کے شعبۂ وکالت میں حسیب اللہ خان ایڈووکیٹ کی خدمات کو بھی سراہا۔
یہ بھی پڑھیں:اپنی پسند کی نمبر پلیٹس؛ گاڑی مالکان کوبڑی خوشخبری مل گئی
کانفرنس میں مختلف سیشنز کے دوران خواتین کے حقوق، قانونی تعلیم، صنفی مساوات، عدالتی اصلاحات اور خواتین وکلاء کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی جس میں مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ خواتین کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی سے نہ صرف عدالتی نظام مضبوط ہوگا بلکہ معاشرتی انصاف کو بھی فروغ ملے گا۔
کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے خواتین کے حقوق کے تحفظ، قانونی شعور کے فروغ اور خواتین وکلاء کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔