خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے:سلیم بخاری

Dec 01, 2025 | 22:28:PM
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے:سلیم بخاری
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے پر غور کیا جا رہا ہے، جوکہ اچھا آپشن نہیں، پی ٹی آئی حکومت نے اسلام آباد پر چڑھائی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

معروف پروگرام ’’سلیم بخاری شو‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب فوجی حکمران تھے تو اس وقت صوبوں میں گورنر راج لگائے جاتے تھے لیکن ان کا زیادہ تر تعلق وہاں کی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال سے ہوتا تھا لیکن کے پی کے حالات بلکل مختلف ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جب ایسے حالات پیدا ہوئے ہوں کہ وفاقی حکومت مجبور ہو جائے یہ سوچنے پر کہ وہاں گورنر راج لگایا جائے۔

سلیم بخاری نے کہا کہ جب سے پاکستان تحریک انصاف کے پی میں برسر اقتدار آئی ہے، انہوں نے سوائے احتجاجوں کے، لانگ مارچ کے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کے اور کبھی پنجاب فتح کرنے کے کچھ بھی نہیں کر کے دیا ہے۔

دوسری طرف جہاں ان کو پرفارمنس کا تعلق ہے، اس کو کسی بھی کرائٹیریا پر چیک کریں تو سوائے مایوسی کے کچھ بھی نہیں نظر آتا ہے، کیوںکہ وہاں کے چیف منسٹر کی توجہ ہی نہیں رہی کہ وہاں کی جو عوام ہے اس کی بہتری کے لیے کچھ کرنا چاہئے۔

معروف تجزیہ کار نے کہا کہ محمود خان اور علی امین گنڈا پور جب سے وزیراعلیٰ کے پی تھے اور جب خان صاحب وزیراعظم تھے تو سب کے پی میں اچھا دکھائی دیتا تھا لیکن انہوں نے کچھ ایسے اقدامات کیے تھے جن کے اثرات اب ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

بخاری صا حب نے کہا کہ جہاں تک تو وہاں کے حالات کا تعلق ہے تو وہاں گورنر راج بہت پہلے لگ جانا چاہتے تھا۔وہ اس لیے کہ وہاں پر کچھ بھی کنٹرول میں نہیں ہے، جب وفاقی حکومت کے دو اہم ‍ذمہ دار وزراء کہہ رہے ہوں تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایسا بلکل بھی نہیں ہے۔

 افغان شہریوں کے انخلا سے متعلق سوال پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ میں ٹرمپ کے آنے کے بعدوہ سیٹلڈ لوگ جو کئی دہائیوں سے وہاں ملازمت کررہے تھے ان کو نکالا نہیں گیا۔ کیا یہ نہیں کہا گیا کہ ان لوگوں نے ہمارے امن کو تباہ کر دیا ہے، کیا انہوں نے بہت سے چیف ایگزیکٹوز کو جن کا تعلق بھارت سے تھا ان کو نہیں نکالا پھر اپنی عوام کے تحفط کے لیے اور ان لوگوں کو جوکہ پاکستانی نہیں ہیں ان کو نکالنا چاہتے ہیں تو کیا غلط ہے۔

معروف تجزیہ کار کے مطابق خاص طور پر وہ لوگ جن کو ہم نے اپنے منہ کا نوالہ دیا ان کو پناہ دی اب وہی ہمارے گلے کاٹ رہے ہیں اور ہمارے امن و امان کے درپے ہیں۔تو کیسے ان لوگوں کو ایسا کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جس قسم کے معاہدے کی بات ہم کر رہے ہیں اس کی مین شقیں طے ہو جاتی ہیں لیکن زیلی معاملات بعد میں طے ہوتے ہیں، غزہ میں امن کے لیے اسرائیل کی وابستگی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور کہا کہ امن معاہدے کی حمایت کرنے والے مسلم ممالک کو اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اگرچہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 9 اکتوبر کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل نے علاقے پر بمباری جاری رکھی ہے، اور امن کے لیے طویل مدتی منصوبے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

پاک فوج کو غزہ بھیجنے کے حوالے سے رائے کا اظہار کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ اس معاملے پر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، پاکستان کا ایک ٹریک ریکارڈ ہے، اقوام متحدہ نے بھی کہا ہے کہ پاکستان سے زیادہ کمٹڈ فورس کسی کی بھی نہیں ہے اور پاکستان سے زیادہ ٹرینڈ فورس بھی کسی کی نہیں ہے۔

معروف تجزیہ کار نے کہا کہ ہماری فورس غزہ وہاں جائے گی ضرور لیکن اقوام متحدہ کی امن فوج کے طور پر یہ بات ورزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ آرمی چیف اور اب اسحاق ڈار بھی یہی بات کہ رہے ہیں لیکن اگر امریکہ اور اسرائیل کی یہ سازش ہے کہ وہ فلسطینیوں اور حماس کو پاک فورسز کے ہاتھوں مروانا چاہتے ہیں تو ایسا بلکل بھی نہیں ہو سکتا۔ 

انہوں نے اسحاق ڈار کے بیان کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نائب وزیراعظم نے کہا کہ 29 ستمبر کے اعلان سے غزہ میں قتل عام کو روکا جاسکتا تھا، خوراک کی عدم دستیابی سے ہونے والی بچوں کی اموات روکنا بھی مقصد تھا، اعلان کے باجود غزہ میں جنگ بندی کی کافی خلاف ورزیاں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں :شادی کی تقریب سے واپسی پر بچی ٹریکٹر ٹرالی کے نیچے آ کر جاں بحق