ٹرمپ کی دھمکی کے بعد بھارت نے روسی تیل کی خریداری روک دی

Aug 01, 2025 | 10:25:AM
ٹرمپ کی دھمکی کے بعد بھارت نے روسی تیل کی خریداری روک دی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )بھارتی ریفائنریز نے پچھلے ہفتے سے روسی تیل کی خریداری روک دی، کیونکہ رواں ماہ ماسکو سے ملنے والی رعایتیں کم ہوگئیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممالک کو روس سے تیل خریدنے سے خبردار کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک بھارت روسی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جو ماسکو کے لیے یوکرین کے خلاف چوتھے سال کی جنگ میں اہم آمدنی کا ذریعہ ہے۔

ریفائنریز کے منصوبوں سے واقف 4 ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ بھارت کی ریاستی ریفائنریز نے پچھلے ایک ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے سے روسی خام تیل کی خریداری نہیں کی، جن میں انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی)، ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن (ایچ پی سی ایل)، بھارت پٹرولیم کارپوریشن (بی پی سی ایل) اور منگلور ریفائنری پیٹروکیمیکل لمیٹڈ (ایم آر پی ایل) شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ٹیرف سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط ، ٹرمپ نے بھارت کی چیخیں نکلوا دیں

انڈین آئل کارپوریشن، ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن، بھارت پٹرولیم کارپوریشن، منگلور ریفائنری پیٹروکیمیکل لمیٹڈ اور وفاقی تیل وزارت نے رائٹرز کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

 ذرائع نے بتایا کہ چاروں ریفائنریز باقاعدگی سے روسی تیل کی خریداری کرتی ہیں وہ اب اس کے متبادل کے لیے اسپاٹ مارکیٹس کی طرف رجوع کر رہی ہیں، جن کی زیادہ تر توجہ مشرق وسطیٰ کے گریڈ جیسے ابو ظبی کا مرابن خام تیل اور مغربی افریقی تیل پر مرکوز ہے۔

نجی ریفائنرز، جیسے ریلائنس انڈسٹریز اور نیارا انرجی، جو روسی کمپنیوں، بشمول روسنفت، کی اکثریتی ملکیت ہیں، ماسکو کے ساتھ سالانہ معاہدے رکھتے ہیں اور بھارت میں روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔

واضح رہے کہ 14 جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماسکو کا یوکرین کے ساتھ بڑا امن معاہدہ نہ ہونے تک روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی۔

ذرائع کے مطابق بھارتی ریفائنرز روسی خام تیل سے پیچھے ہٹ رہے ہیں کیونکہ رعایتیں 2022 کے بعد اپنی کم ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں، جب ماسکو پر مغربی پابندیاں عائد کی گئیں، جس کی وجہ کم روسی برآمدات اور مستحکم طلب تھی۔

روس بھارت کو تیل کی مجموعی سپلائی کا تقریباً 35 فیصد برآمد کرتا ہے۔