بیورو کریسی میں ترقیاں، تبادلے، سیکرٹریٹ گروپ کے 131 افسران کی ترقی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد تُرک)وفاقی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر ترقیوں و تبادلوں کے تحت سیکرٹریٹ گروپ کے 131، پولیس سروس کے متعدد اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 60 افسران کو گریڈ 19 میں ترقی جبکہ آفس مینجمنٹ گروپ کے 39 افسران کو گریڈ 18 میں ترقی دے دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی بیوروکریسی میں سول و پولیس افسران کی ترقیوں اور تبادلوں کا بڑا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف سروس گروپس کے افسران کو اگلے گریڈز میں ترقی دے دی گئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام ترقیوں اور تقرریوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔ متعلقہ فورمز، ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی اور ڈیپارٹمنٹل سلیکشن بورڈز نے ان ترقیوں کی منظوری دی تھی۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ مختلف نوٹیفکیشنز کے مطابق سیکرٹریٹ گروپ سے تعلق رکھنے والے 131 افسران کو گریڈ 19 میں ترقی دی گئی ہے۔ ترقیوں کی منظوری ڈیپارٹمنٹل سلیکشن بورڈ نے دی۔ ترقی پانے والوں میں ڈپٹی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اعجاز احمد بھی شامل ہیں جبکہ ثاقب علی خان کو ڈپٹی سیکرٹری قومی ورثہ ڈویژن تعینات کیا گیا اور وحید اللہ خان کو بطور ڈپٹی سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن برقرار رکھا گیا۔ ناصر درانی اور سہیل بابر کو ڈپٹی سیکرٹری دفاع ڈویژن تعینات کیا گیا۔ سارہ محبوب کو اقتصادی امور ڈویژن، طاہرہ سلیم کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں برقرار رکھا گیا جبکہ عائزہ ستار بھی اقتصادی امور ڈویژن میں برقرار رہیں گی۔
اسی طرح ملک شہباز وحید کو وزارت داخلہ، محمد سلمان کو کابینہ ڈویژن، شہزاد ظریف کو وزارت تجارت، صفدر علی خان کو کابینہ ڈویژن میں تعینات کیا گیا۔ ساجد الحسن شاہ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں برقرار رکھا گیا جبکہ افتخار احمد خان کو وزارت داخلہ میں تعینات کیا گیا۔ ہما رقیہ صفدر کو وزارت صنعت و پیداوار، توقیر محمود کو وزارت داخلہ، سحر مانو کو خزانہ ڈویژن میں برقرار رکھا گیا۔ محمد احتشام الحق کو پاور ڈویژن، سجیل سعید کو آبی وسائل ڈویژن میں تعینات کیا گیا جبکہ مبین سعید کو اقتصادی امور ڈویژن میں برقرار رکھا گیا۔
بدر احسان اللہ کو وزارت پارلیمانی امور، محمد وسیم طارق کو دفاع ڈویژن، عبدالسلام کو وزارت داخلہ، علی قائم کو وزارت صنعت و پیداوار میں برقرار رکھا گیا۔ سمیرہ رفیق کو اقتصادی امور ڈویژن، حسن عبداللہ کو وزیراعظم دفتر، فاطمہ برکی کو دفاع ڈویژن میں برقرار رکھا گیا۔ الطاف حسین کو صنعت و پیداوار ڈویژن، جاوید شاہ کو موسمیاتی تبدیلی ڈویژن، ریاض علی میتلو کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں برقرار رکھا گیا جبکہ مرید حسین جسرا کو نیشنل سیکیورٹی ڈویژن، ریحان رؤف کو وزارت تجارت میں تعینات کیا گیا۔
محمد بلال خان اور رضا حسن کو بالترتیب وزارت داخلہ اور موسمیاتی تبدیلی ڈویژن میں برقرار رکھا گیا جبکہ عائشہ کرامت کو خزانہ ڈویژن اور طارق محمد خان کو مذہبی امور ڈویژن میں تعینات کیا گیا، مزید برآں ترقی پانے والوں میں اقصٰی لیاقت ،عنبرین زیدی، مشتاق احمد، رشید ، کاشف حسین ،عزیر احمد، حفیظ اللہ خان ، شاہدہ ، حنا بتول گریزی ،شہریار عبا سی ، محمد عرفان خان، حسیب شہباز امین ، حرا انوار، وجہیہ بشیر، پیار علی لاکھو، خرم حمید پراچہ ، اسرار احمد،ماریہ نواز قیصرانی ،شیر یں طارق ، عدیل رضا، اقصی شوکت ، فروہ عباس، مصباح بشیر، فیصل کریم قریشی ، ظل ہما، عبد الحنیف ، سارہ بینظیر، حافظ شہزاد مسعود، عبد الر حیم خان، راشد خٹک، میاں عثمان علی شاہ ،علینہ علی ،شعیب احمد، زہرہ ابڑو، محمد اویس جاوید، احمد علی،ظہیر الدین با بر،صمد طالب ، پروین مبارک ، محمد حسن ،محمد اسد ، سجاد احمد قاضی ، اشرف علی ، اکبر غنی خان خٹک ، جواد احمد، محمد سلیم اللہ ، محمد آصف ،محمد ایاز، عمران راشد ،محمد نجیب اللہ ، فلک شیر ،احمد نواز چوہان ، ساجد خان ،یاور حسین رانا، شاہد احمد، ذیشان رضا زیدی ، علی محمد، فرخ عباس خان ، ماجد حسین ، عتیق احمد،امین خان ، محمد شاہد ، شازیہ نورین ، غلام مرتضی ، وقار ذولفقار احمد آصف ،حبیب انور،محمد معتصم باللہ رانا ، محمد کامران ، عرفان احمد اعوان، جاوید اقبال، مصباح الرحمن ، فرید سلطان، قلندر خان ، محمد آصف ریاض ، امجد علی ،شوکت علی خان ، اعجاز احمد ، سیدہ ثوبیہ فاطمہ ، فضہ شاہد، حمیر عامر، محمد صہیب، علی فیصل ، ثوبیہ بتول ،ماریہ عاطف ڈار ،محمد عمیر، واثقہ وحید، عاشج لقمان حافظ ,محمد رضوان اصغر, رمیض اعظم , فائز عالی گل , چوہدری سعد غنی , عطیہ سلطانہ , اسد نعیم , ثونیہ اسلم , عبد الرزاق, غلام خالق شامل ہیں.
دوسری جانب پولیس سروس آف پاکستان کے 28 افسران کو گریڈ 19 میں ریگولر ترقی دی گئی ہے، جس کی منظوری ڈیپارٹمنٹل سلیکشن بورڈ نے دی، جبکہ بورڈ کا اجلاس 13 اور 14 فروری کو منعقد ہوا تھا۔ ترقی پانے والے بیشتر افسران کو موجودہ مقامات پر خدمات جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ترقی پانے والوں میں محمد ایاز، ملک جمیل ظفر، کیپٹن (ر) امیر سعود، ذیشان حیدر، نجیب اللہ پاندرانی، شہباز الٰہی، محظور علی، کیپٹن (ر) محمد اجمل، محمد راشد، زنیرا اظفر، محمد عاصم، محمد بہرام خان، محمد عمران سیٹھی، شاہ نواز، حسام بن اقبال، عمران احمد ملک، سمیر نور، کیپٹن (ر) دوست محمد، محمد عبداللہ لک، کیپٹن (ر) مظہر اقبال، محمد عمر خان، زبیر نذیر احمد شیخ، جویریہ محمد جمیل، محمد عمران، سہائے عزیز، محمد عثمان طارق بٹ، امبرین علی اور سونیا شمروز خان شامل ہیں، گریڈ 19 میں ایکٹنگ چارج پر ترقی پانے والے پولیس سروس آف پاکستان کے 14 افسران میں اسد اللہ ناصر، خرم شہزاد,احمد نواز شاہ، محمد عمران خان، عطاء الرحمان ,محمد عمران، سرفراز ورک، کیپٹن (ر) علی بن طارق , نجم الحسنین لیاقت، تصور اقبال، کیپٹن (ر) شیر علی , ضیاء الدین احمد, عبدالوھاب , کیپٹن (ر) نوید عالم شامل ہیں.
علاوہ ازیں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 18 کے 60 افسروں کو گریڈ 19 میں مستقل ترقی دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں سے 38 افسران ایکٹنگ چارج پر گریڈ 19 میں فرائض انجام دے رہے تھے جبکہ 22 افسروں کو گریڈ 18 سے 19 میں ترقی دی گئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان افسروں کی ریگولر ترقی کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں جبکہ بیشتر افسران کو موجودہ مقامات پر ہی خدمات جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ترقی پانے والوں میں عبداللہ نیئر شیخ، بشیر احمد، سیدہ رملہ علی، مس زینیا ہمایوں سانک، رانا عدیل تصور، سرمد سلیم اکرم، قرة العین ملک، سلمان خان، کاشف علی، سید جواد مظفر، میاں بہزاد عادل، ارشد قیوم برکی، سدرہ سلیم، صبا اصغر علی، کامران خان، سمیع اللہ فاروق، محمد آصف رحیم، احمد عثمان جاوید، مس عمیرہ بیدار، محمد عثمان خالد، ندیم ناصر، میر رضا اوزگن، عائشہ رضوان، جہانزیب، منصور احمد خان، وسیم حمید، عارف اللہ اعوان، محمد عمر، عمران حسین رانجھا، احسان علی جمالی، محمد ذیشان حنیف، جاوید نبی، واصف رحمن، نشا اشتیاق، الطاف احمد چاچڑ، دھرمون بھوانی، خرم شہزاد اور عدیل حیدر شامل ہیں جبکہ گریڈ 18 سے 19 میں ترقی پانے والوں میں سارہ حیات، نوید احمد، بشریٰ اقبال راؤ، بلاول ابڑو، حمیرا ارشاد، سید محمد عباس شاہ، محمد خالد سلیم، مس بتول اسدی، میر محمد نواز، محمد سعید لغاری، نیلم سلطانہ خٹک، منصور ارشد، رومان بڑانہ، عاصمہ اعجاز، عنبر میر، محمد اکرام ملک، وسیم احمد، شبانہ خلیل، کنول نظام، محمد وقاص راجپوت، بلال سلیم اور بلال شاہد راؤ شامل ہیں۔
مزید برآں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 19 افسران کو ایکٹنگ چارج کی بنیاد پر گریڈ 19 میں ترقی دی گئی ہے جن میں نور العین قریشی، عائشہ غضنفر، عفیفہ شجاع، عثمان اشرف، ماہم آصف ملک، اویس مشتاق، عدنان خان بہتانی، حنا ارشد، حسین احمد رضا چوہدری، فیاض علی، عامر حسین، عون حیدر گوندل، میر مہر اللہ بادینی، ذوالفقار علی کاکڑ، جمعداد، محمد عدنان زاہد، جنید اقبال خان، فاطمہ بشیر اور عدنان فرید شامل ہیں، آفس مینجمنٹ گروپ کے 39 افسران کو بھی گریڈ 18 میں ترقی دے دی گئی ہے۔ ترقیوں کی منظوری ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی نے دی جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔
ترقی پانے والے افسران کو موجودہ مقام پر ہی خدمات جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ گریڈ 18 میں ترقی پانے والوں میں محمد نعمان مصطفیٰ، محمد زبیر عبداللہ، ثناء شوکت، شہاب الدین، پزواک امتیاز، مومل شہاب، محمد عثمان شاکر، زوہا ملک شیر، محمد حمزہ اقبال، علی احمد، عمیمہ بتول، انیلہ جاوید، محمد عظیم حیدر، عادل حسین، حفصہ بنت بلال، عمر حیات، محمد امتیاز اعظم، علی اسد، عائشہ صدیقہ، علی حیدر، ربیقہ اصغر، یاسر علی، محمد شہزاد ظفر ہاشمی، محمد افضل صدف، محمد ظہیر، ڈاکٹر عبدالقیوم، شمس الدین، ناہید اختر، محمد نعیم خان، اعجاز احمد، نوشاد خالق، علی عبدالرحمان، جہانزیب علی، منیزہ رفیق، ماریہ اظہر، آمنہ مجاہد، محمد اعزاز جان اور معشوق احمد شامل ہیں.
مزید ترقی پانے والوں میں مشتاق احمد، رشید ، کاشف حسین ، عزیر احمد،حفیظ اللہ خان ، شاہدہ ، حنا بتول گریزی ، شہریار عبا سی ،محمد عرفان خان ، حسیب شہباز امین ، حرا انوار،وجہیہ بشیر، پیار علیمز لاکھو، خرم حمید پراچہ ، اسرار احمد، ماریہ نواز قیصرانی ، شیر یں طارق ، عدیل رضا،اقصی شوکت ، فروہ عباس، مصباح بشیر، فیصل کریم قریشی ، ظل ہما، عبد الحنیف، سارہ بینظیر،حافظ شہزاد مسعود، عبد الر حیم خان ،راشد خٹک ، میاں عثمان علی شاہ ،علینہ علی ، شعیب احمد، زہرہ ابڑو، محمد اویس جاوید، احمد علی،ظہیر الدین با بر،صمد طالب ، پروین مبارک ، محمد حسن ،محمد اسد ،سجاد احمد قاضی، اشرف علی ، اکبر غنی خان خٹک ، جواد احمد، محمد سلیم اللہ ،محمد آصف ،محمد ایاز،عمران راشد ، محمد نجیب اللہ ، فلک شیر ، احمد نواز چوہان ، ساجد خان ،یاور حسین رانا،شاہد احمد، ذیشان رضا زیدی ، علی محمد، فرخ عباس خان ، ماجد حسین، عتیق احمد،امین خان ، محمد شاہد، شازیہ نورین ، غلام مرتضی ،وقار ذولفقار احمد آصف ،حبیب انور، محمد معتصم باللہ رانا ، محمد کامران ، عرفان احمد اعوان ، جاوید اقبال، مصباح الرحمن ، فرید سلطان ، قلندر خان ، محمد آصف ریاض ، امجد علی ، شوکت علی خان ، اعجاز احمد ،سیدہ ثوبیہ فاطمہ ، فضہ شاہد، حمیر عامر، محمد صہیب، علی فیصل، ثوبیہ بتول ، ماریہ عاطف ڈار ، محمد عمیر، واثقہ وحید، عاشج لقمان ھافظ ، محمد رضوان اصغر،رمیض اعظم ، فائز عالی گل، چوہدری سعد غنی ، عطیہ سلطانہ ، اسد نعیم ، ثونیہ اسلم ، عبد الرزاق، غلام خالق شامل ہیں۔
دوسری جانب پولیس سروس آف پاکستان کے 28 افسران کو گریڈ 19 میں ریگولر ترقی دی گئی ہے، جس کی منظوری ڈیپارٹمنٹل سلیکشن بورڈ نے دی، جبکہ بورڈ کا اجلاس 13 اور 14 فروری کو منعقد ہوا تھا۔ ترقی پانے والے بیشتر افسران کو موجودہ مقامات پر خدمات جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ترقی پانے والوں میں محمد ایاز، ملک جمیل ظفر، کیپٹن (ر) امیر سعود، ذیشان حیدر، نجیب اللہ پاندرانی، شہباز الٰہی، محظور علی، کیپٹن (ر) محمد اجمل، محمد راشد، زنیرا اظفر، محمد عاصم، محمد بہرام خان، محمد عمران سیٹھی، شاہ نواز، حسام بن اقبال، عمران احمد ملک، سمیر نور، کیپٹن (ر) دوست محمد، محمد عبداللہ لک، کیپٹن (ر) مظہر اقبال، محمد عمر خان، زبیر نذیر احمد شیخ، جویریہ محمد جمیل، محمد عمران، سہائے عزیز، محمد عثمان طارق بٹ، امبرین علی اور سونیا شمروز خان شامل ہیں۔
گریڈ 19 میں ایکٹنگ چارج پر ترقی پانے والے پولیس سروس آف پاکستان کے 14 افسران میں اسد اللہ ناصر، خرم شہزاد،احمد نواز شاہ، محمد عمران خان، عطاء الرحمان ،محمد عمران، سرفراز ورک، کیپٹن (ر) علی بن طارق ،نجم الحسنین لیاقت، تصور اقبال، کیپٹن (ر) شیر علی ، ضیاء الدین احمد،عبدالوھاب ، کیپٹن (ر) نوید عالم شامل ہیں، علاوہ ازیں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 18 کے 60 افسروں کو گریڈ 19 میں مستقل ترقی دینے کی منظوری دی گئی ہے۔
ان میں سے 38 افسران ایکٹنگ چارج پر گریڈ 19 میں فرائض انجام دے رہے تھے جبکہ 22 افسروں کو گریڈ 18 سے 19 میں ترقی دی گئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان افسروں کی ریگولر ترقی کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں جبکہ بیشتر افسران کو موجودہ مقامات پر ہی خدمات جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ترقی پانے والوں میں عبداللہ نیئر شیخ، بشیر احمد، سیدہ رملہ علی، مس زینیا ہمایوں سانک، رانا عدیل تصور، سرمد سلیم اکرم، قرة العین ملک، سلمان خان، کاشف علی، سید جواد مظفر، میاں بہزاد عادل، ارشد قیوم برکی، سدرہ سلیم، صبا اصغر علی، کامران خان، سمیع اللہ فاروق، محمد آصف رحیم، احمد عثمان جاوید، مس عمیرہ بیدار، محمد عثمان خالد، ندیم ناصر، میر رضا اوزگن، عائشہ رضوان، جہانزیب، منصور احمد خان، وسیم حمید، عارف اللہ اعوان، محمد عمر، عمران حسین رانجھا، احسان علی جمالی، محمد ذیشان حنیف، جاوید نبی، واصف رحمن، نشا اشتیاق، الطاف احمد چاچڑ، دھرمون بھوانی، خرم شہزاد اور عدیل حیدر شامل ہیں جبکہ گریڈ 18 سے 19 میں ترقی پانے والوں میں سارہ حیات، نوید احمد، بشریٰ اقبال راؤ، بلاول ابڑو، حمیرا ارشاد، سید محمد عباس شاہ، محمد خالد سلیم، مس بتول اسدی، میر محمد نواز، محمد سعید لغاری، نیلم سلطانہ خٹک، منصور ارشد، رومان بڑانہ، عاصمہ اعجاز، عنبر میر، محمد اکرام ملک، وسیم احمد، شبانہ خلیل، کنول نظام، محمد وقاص راجپوت، بلال سلیم اور بلال شاہد راؤ شامل ہیں۔
مزید برآں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 19 افسران کو ایکٹنگ چارج کی بنیاد پر گریڈ 19 میں ترقی دی گئی ہے جن میں نور العین قریشی، عائشہ غضنفر، عفیفہ شجاع، عثمان اشرف، ماہم آصف ملک، اویس مشتاق، عدنان خان بہتانی، حنا ارشد، حسین احمد رضا چوہدری، فیاض علی، عامر حسین، عون حیدر گوندل، میر مہر اللہ بادینی، ذوالفقار علی کاکڑ، جمعداد، محمد عدنان زاہد، جنید اقبال خان، فاطمہ بشیر اور عدنان فرید شامل ہیں، آفس مینجمنٹ گروپ کے 39 افسران کو بھی گریڈ 18 میں ترقی دے دی گئی ہے۔
ترقیوں کی منظوری ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی نے دی جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔ ترقی پانے والے افسران کو موجودہ مقام پر ہی خدمات جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ گریڈ 18 میں ترقی پانے والوں میں محمد نعمان مصطفیٰ، محمد زبیر عبداللہ، ثناء شوکت، شہاب الدین، پزواک امتیاز، مومل شہاب، محمد عثمان شاکر، زوہا ملک شیر، محمد حمزہ اقبال، علی احمد، عمیمہ بتول، انیلہ جاوید، محمد عظیم حیدر، عادل حسین، حفصہ بنت بلال، عمر حیات، محمد امتیاز اعظم، علی اسد، عائشہ صدیقہ، علی حیدر، ربیقہ اصغر، یاسر علی، محمد شہزاد ظفر ہاشمی، محمد افضل صدف، محمد ظہیر، ڈاکٹر عبدالقیوم، شمس الدین، ناہید اختر، محمد نعیم خان، اعجاز احمد، نوشاد خالق، علی عبدالرحمان، جہانزیب علی، منیزہ رفیق، ماریہ اظہر، آمنہ مجاہد، محمد اعزاز جان اور معشوق احمد شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :پیپلز پارٹی راولپنڈی ڈویژن کے صدر کے والد انتقال کر گئے