محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس کی کوئی حیثیت نہیں کہ مذاکرات کریں:بیرسٹر عامر حسن
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)عامر حسن نے کہا کہ مذاکرات کے لیے دوغلی پالیسی سے باہر آنا پڑے گا، ان کا چیئرمیں بھیک مانگ رہا ہے کہ مذاکرات کریں، محمود خان اچکزئی اورعلامہ ناصر عباس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کہ وہ مذاکرات کریں۔
پروگرام ’’گونج مسعود رضا‘‘ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر عامر حسن نے کہا کہ سیاسی کارکن کی حثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ ملک میں سیاسی استحکام آئے یا نا آئے۔
استحکام آ چکا ہے اور سیاسی استحکام کیوں نہیں آ رہا، اس لیے کے سیاست کے اندر کچھ قوتیں ایسی پیدا کر دی گئی ہیں جو حقوق سارے چاہتی ہیں، سیاسی جماعتوں والے اور کوئی بھی ذمہ داری سیاسی جماعت والی ادا نہیں کرتیں، ملک میں اس وقت افرا تفری تو ہے اور وہ کیوں ہے اس لیے کہ جب ملک میں افرا تفری پیدا کی جائے گی تو انتشار بڑھے گا جو کہ ہے بھی آئین سب کو سارے حق دیتا ہے لیکن وہ حق تب ختم ہو جاتا ہے جب آپ کسی دوسرے کا حق غضب کرتے ہیں سیاسی رویے اختیار کیے جانیں۔
تحریک انصاف کو چاہئے کہ اپنے چیئرمین کی بات مانیں جس کو ان کے لیڈر نے چیئرمین بنایا ہے وہ بھیک مانگ رہا ہے کہ مذاکرات کیے جائیں تو ان کا جو سوشل میڈیا ہے وہ سمجھے ان کو دوغلی پالیسی سے باہر آنا پڑے گا، محمود خان اچکزئی اورعلامہ ناصر عباس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ان کی کون مانے گا، ان کو چاہئے کہ اپنے لوگ لیں کر آئیں جن کو خان صاحب اعلان کریں اور مذاکرات کریں اور اگر نہیں کرنے ہیں تو ایسے ہی چلتے رہیں۔
پروگرام میں شامل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حافظ محمد نعمان نے کہا کہ میں پورے پاکستان کو نئے سال کی مبارک باد دیتا ہوں، اللہ پاکستان کو خوشحال بنائے معاشی ترقی ہو اور پاکستان کی سالمیت یقینی ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں چائے کی پیالی میں طوفان مچا کے رکھا ہوا ہے ورنہ ملک میں سیاسی اور معاشی دونوں استحکام آچکے ہیں اور ملکی سالمیت کو بھی یقینی بنا دیا گیا ہے یہ تین چیزیں ہوتی ہیں جو کسی بھی ملک کے آگے بڑھنے کے جو انڈیکیٹرز ہوتے ہیں وہ تمام اعشاریے مثبت ہیں ایک ایسی جماعت کے علاوہ جس کو میں کہتا ہوں ایک عجیب الخلقت جماعت ہے جن کا ایک بھان متی کا کنبہ ہے جس کو کوئی سمجھ نہیں آتی یہ کہتے ہیں کہ مذاکرات کریں اورجیسے ہی کہتے ہیں بانی تحریک انصاف کی بہت نکل کر آجاتی ہیں کہ کوئی مذاکرات نہیں کرے گا اور جو کرے گا وہ تحریک انصاف سے نہیں ہے۔
پہلے تو تحریک انصاف کے اندر جو کنفیوژن ہے وہ دور ہونی چاہئے کہ ان کو مذاکرات کرنے بھی ہیں یا نہیں اور جن کو انہوں نے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا ہے، اس کے علاوہ اپنی پارٹی میں کوئی اور نہیں ملا جو مذاکرات کرتا۔اب بات کرتے ہیں کہ عمران خان کو مذاکرات میں کیو ں شامل نہیں کرتے تو نواز شریف ،شہباز شریف اور مریم نواز پر کیسز ضرور چلائے گئے لیکن ان میں سے کوئی بھی سزا یافتہ نہیں ہے۔
عمران خان اس وقت سزا بھگت رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ تحریک انصاف کا احتجاج حکومت کے خلاف نہیں عدالتوں کے خلاف ہے تو اس کا صحیح راستہ یہ ہے کہ ان کے پاس اپیل کا راستہ موجود ہیں یہ وہ راستہ اختیار کریں۔
پروگرام میں شریک میں شامل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ایڈووکیٹ نعیم حیدر پنجوتھا نے کہا کہ جب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لاہور کا دورہ کیا تو ایک طوفان بدتمیزی مچا دیا گیا فوڈ اسٹریٹ بند کر دی گئی ،پنجاب اسمبلی میں جو دھکم پیل کی گئی بدتمیزی کی گئی ہر جگہ ہر راستے میں جو کیا گیا وہ سب نے دیکھا اور جہاں تک احتجاج کی بات ہے تو احتجاج تب کیا جاتا ہے جب ظلم ہوتا ہے یا نا انصافی ہو رہی ہوتی ہے تو آئین آپ کو احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔
چاہے آپ غلط ہی کیوں نا ہوں،آپ ہم سے یہ حق بھی چھیننا چاہتے ہیں، 27ویں ترمیم کے بات ویسے ہی عدالتیں آپ نے ختم کر دی ہیں، عدالتیں جب اپنا کام نا کر رہی ہوں لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ نا ہورہا ہو تو احتجاج ہی باقی رہ جاتا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا:فیلڈ مارشل عاصم منیر