تحریک انصاف سے مذاکرات ،حکومت نے 2 شرائط رکھ دیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)سینیٹر رانا ثنا اللہ نے مذاکرات کیلئے تحریک انصاف کے سامنے 2 شرائط رکھ دیں۔
سینیٹر رانا ثنا اللہ نےمیڈیاسےگفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس لے اور مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے تو مذاکرات کیلئے تیار ہیں، بانی تحریک انصاف تحریری تو کیا زبانی ضمانت بھی نہیں دیں گے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ یقین ہے بانی پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے آمادہ نہیں ہوں گے، ،بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی کو مذاکرات کیلئے اختیارات بھی نہیں دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:12 جنوری کو سنجیدہ تجاویز کیساتھ اسپیکر کے دفتر آجائیں، طارق فضل چوہدری کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حالیہ لاہور دورے پر ردِعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ لاہور میں کہیں بھی ایسی کوئی صورتحال نہیں دیکھی گئی جہاں ہزار یا دو ہزار افراد سڑکوں پر نکلے ہوں۔
رانا ثنااللہ کے مطابق سہیل آفریدی کے ساتھ محض 50 یا 100 افراد تھے جو پنجاب اسمبلی میں دھکم پیل کرتے نظر آئے، ملک میں کوئی سیاسی افراتفری موجود نہیں، سیاسی پارٹیاں روزانہ کی بنیاد پر اپنا مؤقف میڈیا کے ذریعے پیش کرتی رہتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات میں ہے، وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو ایک سے زیادہ بار مذاکرات کی پیشکش کی ہے حتیٰ کہ یہ بھی کہا گیا کہ اگر وزیراعظم ہاؤس نہیں آنا چاہتے تو سپیکر آفس آ جائیں، تمام فریقین کو ٹیبل پر بیٹھنا ہوگا تب ہی مسائل حل ہو سکیں گے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی مذاکرات اور ڈائیلاگ پر یقین نہیں رکھتے اور اب تک انہوں نے اس حوالے سے کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا، بانی پی ٹی آئی کے پیغامات سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ بات چیت کے حامی نہیں ہیں تاہم بیرسٹر گوہر اور پی ٹی آئی کے کچھ سینئر رہنما مذاکرات کے حق میں ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کا گالم گلوچ بریگیڈ خود اپنی قیادت کی ٹرولنگ کرتا ہے، علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو ملاقات کے دوران کہا گیا کہ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں اس کے بجائے سٹریٹ مہم چلائی جائے۔
رانا ثنااللہ نے مزید کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے چار سالہ دورِ حکومت میں اپوزیشن سے حال احوال تک نہیں پوچھا اس لیے اب مذاکرات کی بات کرنا محض دعویٰ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے سٹریٹ موومنٹ چلانے کی کوشش کی تو وہ بری طرح ناکام ہوگی اور اگر کسی قسم کی انارکی یا افراتفری پھیلانے کی کوشش کی گئی تو حکومت بھرپور کارروائی کرے گی۔