پر تشدد مظاہرے، مڈغاسکر کے صدر کا حکومت تحلیل کرنے کا اعلان

Sep 30, 2025 | 11:23:AM
پر تشدد مظاہرے، مڈغاسکر کے صدر کا حکومت تحلیل کرنے کا اعلان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)مڈغاسکر کے صدر آندرے راجولینا نے حکومت تحلیل کرنے کا اعلان کردیا، انہوں نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں اور معذرت خواہ ہیں کہ حکومت کے کچھ اراکین اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مڈغاسکر کے صدر آندری راجولینا نے پرتشدد عوامی مظاہروں کے بعد حکومت تحلیل کرنے کا اعلان کردیا، حکومت تحلیل کرنے کا فیصلہ پانی اور بجلی کی عدم فراہمی پر نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے ان مظاہروں کے بعد کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق مڈغاسکر میں ہونے والے پرتشدد عوامی مظاہروں میں 22 افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے والے مڈغاسکر میں 1960 میں آزادی کے بعد سے بارہا عوامی تحریکیں اور احتجاج ہوتے رہے ہیں لیکن ’جنریشن زیڈ‘ تحریکوں سے متاثر یہ تین روزہ مظاہرے حالیہ برسوں میں اس جزیرہ نما ملک میں سب سے بڑے مظاہرے قرار دیے جا رہے ہیں۔ جس کے باعث حکومت کو تحلیل کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:سوزوکی آلٹو اب صرف 19 ہزار ماہانہ پر، مگر کیسے؟ 

اس سے قبل اسرائیل کی اپوزیشن کی جانب سے پیش کیا گیا پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے مسترد کر دیا تھا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل کرنے سے متعلق اپوزیشن کے بل پر ووٹنگ ہوئی تھی، کنیسٹ کے 120 ارکان میں سے 61 نے بل کے خلاف جبکہ 53 نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

رپورٹس کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے اس بل کو اس امید پر پیش کیا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف یہودیوں کی لازمی فوجی بھرتی کے متنازع معاملے پر ناراض جماعتوں کی مدد سے قبل از وقت انتخابات کروانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

تاہم اپوزیشن کی یہ کوشش ناکام ہوگئی اور نیتن یاہو کی قیادت میں حکومتی اتحاد نے بل کے خلاف ووٹ دے کر اپوزیشن کی چال کو ناکام بنادیا۔