جعلی ای چالان سے ہوشیار! نئے سائبر فراڈ کو کیسے پہچانیں؟

Oct 30, 2025 | 09:48:AM
جعلی ای چالان سے ہوشیار! نئے سائبر فراڈ کو کیسے پہچانیں؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)کراچی میں ای چالان سسٹم فعال ہوتے ہی سائبر کرمنلز ایک نئی چال کے ساتھ متحرک ہوگئے ہیں، جہاں شہریوں کو ٹریفک پولیس کے جعلی ای چالان کے پیغامات بھیجے جانے لگے ہیں۔

ان پیغامات میں بتایا جاتا ہے کہ شہری نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور فوری طور پر جرمانہ ادا کرے۔ پیغام میں ایک لنک بھی دیا جاتا ہے جس پر کلک کر کے مبینہ طور پر چالان ادا کرنے کا کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ پیغامات مکمل طور پر جعلی اور فراڈ پر مبنی ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ سائبر کرمنلز سرکاری طرز کے جعلی پیغامات تیار کر کے شہریوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی شہری ان جعلی لنکس پر کلک کرتا ہے، وہ ٹریفک پولیس کو نہیں بلکہ ان جعل سازوں کو رقم ادا کر بیٹھتا ہے، اس کے علاوہ ان لنکس کے ذریعے شہریوں کے بینک اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات بھی چرا لی جاتی ہیں۔

ڈی آئی جی ٹریفک پولیس پیر محمد شاہ نے واضح کیا ہے کہ ٹریفک پولیس عام نمبرز سے ای چالان نہیں بھیجتی، اس لیے شہری ایسے پیغامات سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشکوک لنک پر کلک نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑ رہا ہے: خواجہ آصف

ماہرین کے مطابق ایسے فراڈ سے بچنے کے لیے چند آسان احتیاطی تدابیر اپنانا ضروری ہے۔

سب سے پہلے، پیغام میں درج گاڑی کا نمبر لازمی چیک کریں کہ آیا وہ آپ کی گاڑی سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔

دوسرا ای چالان کی تصدیق صرف سرکاری ویب سائٹ یا ایپ پر کریں۔

مزید یہ کہ ایسے پیغامات کی زبان پر بھی غور کریں، جعلی پیغامات میں عموماً گرامر کی غلطیاں اور غیرمعمولی جملے شامل ہوتے ہیں، اگر کوئی پیغام مشکوک لگے تو فوری طور پر متعلقہ ٹریفک پولیس سے رابطہ کریں۔

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اپنے موبائل اور کمپیوٹر کے سیکیورٹی سافٹ ویئرز کو ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ میل ویئر یا فِشنگ حملوں سے بچا جا سکے۔

سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ فراڈیے شہریوں کے خوف کا فائدہ اٹھا کر انہیں ٹریفک جرمانوں کے نام پر لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں،اس لیے ضروری ہے کہ شہری کسی بھی مشکوک پیغام پر اندھا دھند یقین نہ کریں، بلکہ ہر اطلاع کی تصدیق صرف سرکاری ذرائع سے کریں۔

سائبر کرمنلز ٹریفک چالان کے بہانے شہریوں کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، شہری اگر محتاط رہیں اور صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں تو خود کو مالی نقصان سے بچا سکتے ہیں، یاد رکھیں، آگاہی ہی آپ کا پہلا دفاع ہے۔

اس کے علاوہ  کراچی کی سڑکوں پر  3 دن میں 11 ہزار  سے زائد ’’ای چالان‘‘ کیے گئے جن میں سے ایک ہزار  755 چالان تیز  رفتاری پر کیے گئے۔

 شہری ای چالان پر حیران و پریشان دکھائی دیے، شہریوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کیمرے اور ڈیوائسز  تو  لگا دیں مگر کہیں بھی رفتار کی حد یا چالان کی زد میں آنے والی دیگر خلاف ورزیوں کے بارے میں بینرز یا سائن بورڈ نہیں لگائے۔

 شہریوں نے کہا کہ اندھا دھند چالان کئے گئے تو ساری کمائی چالان بھرنے میں ہی چلی جائے گی،ڈی ایس پی ٹریفک کاشف ندیم کا کہنا ہے کہ کراچی میں حسن سکوائر ، سوک سینٹر ، شارع فیصل، نرسری ، بلوچ کالونی اور ڈرگ روڈ سمیت، آئی آئی چند ریگر روڈ ، کلفٹن، تین تلوار اور ڈیفنس اتحاد اسٹریٹ پر سسٹم رائج ہے جو  اوور اسپیڈ مانیٹر کررہا ہے۔