بیرونِ ملک بھکاریوں کی بے دخلی کے واقعات میں 75 فیصد کمی آئی: ایف آئی اے

Jul 30, 2026 | 09:35:AM
بیرونِ ملک بھکاریوں کی بے دخلی کے واقعات میں 75 فیصد کمی آئی: ایف آئی اے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)سینیئر حکام کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سخت امیگریشن اقدامات اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مسافروں کی جانچ کے نظام کے نفاذ کے بعد بیرونِ ملک بھیک مانگنے کی وجہ سے پاکستانی شہریوں کی بے دخلی میں 75 فیصد کمی ریاکارڈ کی گئی ہے،اس طرح  یورپ میں غیر قانونی سرحدی داخلوں میں بھی 47 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

 ایف آئی اے کے سینیئر افسر ڈاکٹر اطہر وحید نےبتایا ہے کہ بیرونِ ملک بھکاریوں کی بے دخلی کے واقعات میں 75 فیصد کمی آئی ہے جبکہ جعلی سفری دستاویزات کے باعث بے دخل کیے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔،انہوں نے کہا کہ 2024 کے مقابلے میں دیکھا جائے تو 2025ء کے دوران یورپی ممالک سے پاکستانی شہریوں کی مجموعی بے دخلی میں بھی 16 فیصد کمی آئی۔ 

انہوں نے بتایا کہ یورپی بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی (فرونٹیکس - FRONTEX) کی رپورٹ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ 2026ء کے ابتدائی چار ماہ کے دوران پاکستانی شہریوں کی جانب سے یورپ میں غیر قانونی سرحدی داخلوں میں 47 فیصد کمی آئی جس کا کریڈٹ ایف آئی اے ہوائی اڈوں پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر مؤثر امیگریشن جانچ اور رسک پروفائلنگ کے نظام کو دیتی ہے۔ 

مزید پڑھیں:لاہور: باغبانپورہ میں بوسیدہ مکان کی چھت گر گئی، ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق، 6 زخمی

ایف آئی اے کے مطابق یہ بہتری اپ گریڈ شدہ انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (آئی بی ایم ایس دوم) کے نفاذ کے بعد سامنے آئی جسے نادرا، انٹرپول، امیگریشن اینڈ پاسپورٹ سسٹم (IMPASS) اور بیورو آف امیگریشن کے ڈیٹا بیس سے منسلک کیا گیا ہے۔ ایجنسی نے ایک رسک اینالیسس یونٹ بھی قائم کیا ہے اور ای آئی ایم آئی (e-IMMI) پری ڈپارچر ڈیسک کے ذریعے مصنوعی ذہانت پر مبنی مسافروں کی پروفائلنگ کا نظام متعارف کرایا ہے تاکہ روانگی سے قبل ہائی رسک مسافروں کی نشاندہی کی جا سکے۔ 

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام ویزوں کے منظم غلط استعمال میں ملوث نیٹ ورکس کے خاتمے اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بہتر بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔