حکومت کا الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس لگانے پر غور

Dec 30, 2025 | 11:06:AM
حکومت کا الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس لگانے پر غور
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24 نیوز)حکومت نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے بھاری درآمدی بل میں کمی کے لیے درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، اس بات کا انکشاف پیر کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر خالدہ اطیب کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سینیٹر دانش کمار، سینیٹر سید مسرور احسن کے علاوہ وزارتِ صنعت و پیداوار اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام نے شرکت کی۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کے مطابق حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح کم یا صفر رکھنے کی تجویز ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ ای وی پرزے جو پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں ان کی درآمد پر اضافی ڈیوٹیز بھی عائد کر دی گئی ہیں تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید پڑھیں:رواں سال بیرون ملک جانیوالوں کی تعداد میں ریکارڈ کمی، اعداد و شمار جاری

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں پر رجسٹریشن فیس وصول نہ کی جائے ملک بھر میں یکساں نمبر پلیٹس جاری کی جائیں اور ای وی گاڑیوں سے کم ٹول ٹیکس لیا جائے۔

کمیٹی کو ملک میں الیکٹرک گاڑیوں، خصوصاً موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی مینوفیکچرنگ سے متعلق موجودہ پالیسی پر بھی بریفنگ دی گئی، حکام کے مطابق اب تک تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 17 جبکہ دو پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 77 مینوفیکچرنگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ سال 2030 تک ملک میں گاڑیوں کا 30 فیصد حصہ الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کیا جائے، اس مقصد کے تحت 2030 تک 22 لاکھ گاڑیاں حکومتی سبسڈی کے ذریعے عوام کو فراہم کی جائیں گی۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ گاڑیاں اور 2 کروڑ سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں جبکہ رواں سال عوام کو 1 لاکھ 16 ہزار موٹر سائیکلیں اور 3 ہزار 170 رکشے فراہم کیے جائیں گے۔