بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں، پرائم منسٹر شہباز شریف کا اظہار افسوس
بیگم خالدہ ضیا پاکستان کی مخلص دوست، غم کی اس گھڑی میں بنگلہ دیشی عوام کے ساتھ ہیں:وزیر اعظم
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اویس کیانی)بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیر اعظم بنگلہ دیش بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیگم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش کی ترقی و خوشحالی کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، بیگم خالدہ ضیا پاکستان کی مخلص دوست تھیں، پاکستانی حکومت اور عوام اس غم کی گھڑی میں بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خالدہ ضیا جگر کے عارضے سمیت کئی امراض میں مبتلا تھیں اور کافی عرصے سے ہسپتال میں زیر علاج تھیں تاہم آج وہ خالق حقیقی سے جا ملیں، ان کا انتقال دارالحکومت ڈھاکا کے ہسپتال میں مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے ہوا۔
گزشتہ روز ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا تھا، اس حوالے سے ان کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ کے رکن ڈاکٹر ضیاء الحق کا کہنا تھا کہ خالدہ ضیا کو لائف سپورٹ پر رکھا گیا ہے اور باقاعدگی سے ڈائیلاسس کیا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب بھی ڈائیلاسس روکا جاتا ہے تو ان کی حالت میں نمایاں طور پر بگاڑ آ جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زیادہ عمر اور متعدد پیچیدہ بیماریوں کے باعث ایک ساتھ ہر بیماری کا علاج ممکن نہیں رہا۔
خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی معروف سیاستدان تھیں، جنہوں نے 1991 سے 1996 اور پھر 2001 سے 2006 تک ملک کی وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔
مزید پڑھیں:ممتاز عالم دین مفتی مختارالدین شاہ انتقال کرگئے
وہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں جبکہ انہیں مسلم دنیا میں بے نظیر بھٹو کے بعد دوسری خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔
خالدہ ضیا بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاء الرحمان کی اہلیہ تھیں، سیاسی کیریئر کے دوران ان پر کرپشن کے الزامات لگے۔ انہیں 2018 میں 5 برس کیلئے جیل بھی کاٹنا پڑی تھی۔
عوامی لیگ کی لیڈر شیخ حسینہ واجد سے ان کی طویل سیاسی رقابت بھی رہی۔ بالآخر شیخ حسینہ واجد کو پچھلے سال حکومت چھوڑنا پڑگئی تھی۔
یاد رہےکہ خالدہ ضیا کے بیٹے اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے عبوری چیئرمین طارق رحمان چند روز قبل 17 سالہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس پہنچے تھے۔
ان کی واپسی ایسے وقت میں ہو ئی جب بنگلہ دیش میں اہم انتخابات کا انعقاد ہونے والا ہے۔
طارق رحمان 2008 میں 18 ماہ قید کے بعد علاج اور دیگر وجوہات کی بنا پر برطانیہ چلے گئے تھے۔