پیٹاگونیا : ڈائنوسار دور کے خوفناک ترین مگرمچھ کی باقیات دریافت

Aug 30, 2025 | 12:07:PM
پیٹاگونیا : ڈائنوسار دور کے خوفناک ترین مگرمچھ کی باقیات دریافت
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)ماہرینِ نے جنوبی پیٹاگونیا کے کوریلو فارمیشن سے Kostensuchus atrox نامی ایک خوفناک ترین مگرمچھ نما جانور کی باقیات دریافت کی ہیں تقریباً 70 لاکھ سال قبل ڈائنوسار سے تعلق رکھتا ہے۔ 

یہ جانور صرف 3.5 میٹر (تقریباً 11.5 فٹ) لمبا اور تقریباً 250 کلوگرام (550 پاؤنڈ) وزنی تھا 

اس کا مُنہ چوڑا اور مضبوط جبڑا، تیز اور کٹے ہوئے دانتوں سے بھرا ہوا تھا جو گوشت کو کاٹنے کے لیے مؤثر تھے اور جانور کو ایک حقیقی گوشت خور بناتے تھے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی ابتدائی ٹانگیں سیدھی اور مضبوط تھیں، جو شکار کی پیروی اور نشانہ بنانے میں مددگار ثابت ہوتی تھیں۔

اس نے ممکنہ طور پر درمیانے یا چھوٹے ڈائنوسار کو بھی شکار بنایا ہوگا 

کوریلو فارمیشن ایک ایسا ایکو سسٹم والا خطہ تھا جہاں میسو زوئک دور میں موسمی طور پر مرطوب اور گرم حالات تھے۔

پانی سے بھری وادیوں میں ڈائنوسار، سمندری ٹرٹلز، مینڈک اور دیگر ممالیہ جات موجود تھے 

Kostensuchus atrox ایک غالب شکاری جانور تھا اور علاقائی ایکو سسٹم میں اس کا اثر ماحولیاتی ڈھانچے پر بہت اہم تھا۔