ستلج میں انتہائی اونچےدرجے کا سیلاب،ملتان کوبچانے کیلئےپانچ بندوں پر ڈائنامائٹ نصب 

1955 کے بعدستلج میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ،این ڈی ایم اےنے دریائے سندھ میں بھی شدید سیلاب سے خبردار کر دیا

Aug 30, 2025 | 08:20:AM
ستلج میں انتہائی اونچےدرجے کا سیلاب،ملتان کوبچانے کیلئےپانچ بندوں پر ڈائنامائٹ نصب 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (علی رامے،مہر عمران)بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانےکے باعث پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرارہے اورہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں،ملتان کوسیلاب سے بچانے کے لیے پانچ بندوں پر ڈائنامائٹ نصب کردیئے گئے ہیں۔

چناب میں انتہائی بلند سیلاب کے ملتان کی طرف تیزی سے بڑھنے کے ساتھ حکام ملتان کو بچانے کے لیے بستی سنکی، بستی دوآبہ،چک روہاری، چک مِٹھن اور شیر شاہ کے مقامات پر پانچ بندوں کو اڑانے کے لیے تیار ہیں۔

سیلاب نے جنوبی پنجاب کا رخ کر لیاہے جس کے بعد11 اضلاع  میں ہائی الرٹ کی پوزیشن ہے،بڑا سیلابی ریلا شام تک ملتان کی حدود میں داخل ہوگا،سیلابی ایمرجنسی نافذکرتے ہوئے138 بستیوں سے 3لاکھ افراد کونکال لیاگیاہے۔
دریائے چناب کا بڑا سیلابی ریلا چنیوٹ اورجھنگ میں تباہی مچاتاہوا تریموں کی طرف بڑھنے لگاہے،بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہورہاہے،وہاڑی،لڈن اور گردونواح میں سیلابی ریلے سے تباہی ہوئی ہے اورکئی بستیوں کے حفاظتی عارضی بند ٹوٹ گئے ہیں جبکہ 20 سے زائد بستیاں زیرِ آب آگئی ہیں۔
دوسری طرف دریائے سندھ میں بھی طغیانی اورگڈو بیراج پر سپر فلڈ کا امکان ہے،پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے،بند ٹوٹنے سےدرجنوں دیہات پانی کی نذر ہو گئے ہیں،ایک بار پھر کچے کے متعدد دیہات اور کھڑی فصلیں زیرآب آگئی ہیں۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک اوردریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پر1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے،دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا چنیوٹ، جھنگ اور تریموں کی طرف بڑھ رہا ہے،بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کی کیوسک مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے،ستلج میں تین دہائیوں کاخوفناک سیلاب ریکارڈکیاگیاہے جس کے باعث قصور شہرخطرے میں آگیاہے، تلوارپوسٹ سےملحقہ دیہات خالی کرانے کے لیے اعلانات کردیئے گئے ہیں۔
پنجاب میں بدترین سیلاب سے15لاکھ افرادمتاثر ہوئے اور1400دیہات ڈوب گئے،ایک دن میں 23قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ متعددزخمی ہوگئے،راوی،چناب اورستلج نےبستیوں کی بستیاں اجاڑدیں،دیہات اورشہروں کودریابنادیا،گلی،محلےاورسڑکیں ڈبودیں۔

سیلاب سے متاثرہ شکرگڑھ ،سیالکوٹ اور ظفروال میں پھرموسلادھاربارش کے باعث نشیبی علاقےدوبارہ ڈوب گئے جس سے دو روز پہلے کے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیاہے۔

دوسری طرف دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور بہاؤ ایک لاکھ 92 ہزار 545 کیوسک تک پہنچ گیاہے، ہیڈ سدھنائی پر بھی پانی میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ شاہدرہ لاہور اور جسڑ پر بہاؤ میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر بھی پانی کی آمد بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان سے آج اندرون ملک کیلئے ٹرین سروس معطل
 بھارت میں بند ٹوٹنے کے سبب پانی قصور کی طرف بڑھا، دریائے ستلج میں قصور کے مقام پر 1955 کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا پانی آیا ہے،  قصور شہرکو بچانےکا چیلنج درپیش ہے، لاہور اب بالکل محفوظ ہے جبکہ دریائے راوی میں طغیانی کے سبب آئندہ 24 سے 48 گھنٹے اوکاڑہ، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت لاہور سے نیچے کے اضلاع کے لیے سخت ہوں گے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک سیلاب کے باعث پنجاب میں 28 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، تاہم بروقت ریسکیو آپریشنز کے باعث مزید جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔

دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافےکے باعث چشتیاں کے نواحی علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی اور 50 کے قریب بستیاں زیرآب ہوگئیں،بند ٹوٹنے سے پانی گھروں اور آبادیوں میں داخل ہوگیا، بستی میروں بلوچاں، موضع عظیم، قاضی والی بستی، بستی شادم شاہ اور دلہ عاکوکا سمیت 50 کے قریب بستیاں شدید متاثر ہوگئیں جس کے باعث علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جارہا ہے،کئی مقامات پر فصلیں بھی تباہ ہوگئیں جس سے کسانوں کو بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔

 نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے دریائے سندھ میں بھی شدید سیلاب سے خبردار کر دیاہے،این ڈی ایم اے کے مطابق تینوں مشرقی دریاؤں میں موجود شدید سیلابی صورتحال کے باعث نشیبی دریائے سندھ میں بھی شدید سیلابی صورت حال کا خطرہ ہے،  3 سے 4 ستمبر کے دوران 9 سے ساڑھے 9  لاکھ کیوسک تک کے ریلے پنجند ہیڈ ورکس سے گزریں گے، این ڈی ایم اے نے لاہور،گوجرانوالہ اورگجرات ڈویژن میں شدیدبارشوں کا امکان ظاہرکردیاہے۔

 این ڈی ایم اے کے مطابق گڈو بیراج پر 5 سے 6 ستمبر کے دوران 8 لاکھ سے 11 لاکھ کیوسک بہاؤ متوقع ہے، سکھر بیراج میں 6 سے 7 ستمبر کے دوران 8  سے 11 لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ متوقع ہے، کوٹری بیراج میں 8 سے 9 ستمبر کے دوران 8 سے 10  لاکھ کیوسک بہاؤ متوقع ہے۔ 

اوچ شریف میں دریائے ستلج کی تباہ کاریاں بدستور جاری ہیں، زمیندارہ بند ٹوٹنے سے بستی سمیجہ ،بستی حسام ،بستی داد پوترا سمیت متعدد بستیاں زیر آب آ چکی ہیں.

ملتان میں ممکنہ سیلاب سے3 لاکھ سے زائد آبادی کو خطرہ لاحق ہوگیاہے،ملتان انتظامیہ نے سٹی اور صدر کے علاقوں کیلئے الرٹ جاری کرتے ہوئے ممکنہ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو فوری نقل مکانی کی ہدایات کردی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھی ایک ہفتے سے مسلسل بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر، درجنوں پل اور سڑکیں تباہ ہوگئیں،پچاس سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیاہے،چودہ اگست سے اب تک مختلف حادثات میں اموات کی تعداد ایک سو دس ہوگئی ہے۔