پہلگام حملہ:مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں اور نفرت انگیز پروپیگنڈا جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(احمد منصور)پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات میں شدت آ گئی ہے،مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور مسلمانوں کو حملوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت کی ریاست اتر پردیش، ہریانہ، مہاراشٹرا اور اترکھنڈ میں مسلمان ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر ہیں، بی جے پی کے اراکین کی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی بھرپور حمایت کی جارہی ہے، نفرت انگیز مواد پھیلانے کا مقصد مسلمانوں کے خلاف تشدد کو جواز فراہم کرنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آگرہ میں ایک مسلمان شخص کے قتل کے بعد حملہ آور نے اسے پہلگام حملے کا بدلہ قرار دیا ہے۔

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے مطابق22 اپریل کے بعد بھارت میں 21 مسلمانوں کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور نفرت انگیز تقاریر کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، ہندو انتہا پسندوں نے ہریانہ اور اتر پردیش میں مسلم تاجروں اور کارکنان کو نشانے پر رکھ لیا ہے، ریاست مہاراشٹر کے وزیر نیتیش رانے نے مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ کرنے کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ"صرف ہندووں سے خریداری کرو"۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتر پردیش میں ایک مسلم ریستوران کے ملازم کے قتل کے بعد حملہ آوروں نے"26 کی موت کا بدلہ 2600 سے لینے" کا دعویٰ کیا ہے۔ ذرائع کا مطابق کشمیری اور بھارتی مسلمان طلباء کو بھارت میں"دہشت گرد" قرار دیا جار ہا ہے،کشمیر میں مقیم مسلم طلباء کو ہاسٹلوں میں حملوں اور دھمکیوں کا سامنا ہے، اس کے علاوہ مسلم خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والے ہوجائیں خبردار