آبی جارحیت،ایسی حکومت چاہئے جو بھارت کوعالمی عدالت انصاف میں لےجاسکے،عمران خان 

Apr 29, 2025 | 20:02:PM
آبی جارحیت،ایسی حکومت چاہئے جو بھارت کوعالمی عدالت انصاف میں لےجاسکے،عمران خان 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ارشادقریشی)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بانی چئیرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنابڑی جارحیت ہے اور اس کے خلاف ایسی حکومت ہونی چاہیے جو بھارت کو عالمی عدالت انصاف میں لے جا سکے۔

 اڈیالہ جیل سے عمران خان نے اپنے وکلاء کے ذریعے پیغام بھیجا جس کی تفصیلات سابق وزیر اعظم کی بہن علیمہ خان نے گورکھپور ناکہ پر میڈیا سے گفتگو میں بتائیں، اپنے پیغام میں عمران خان نے کہا کہ نریندر مودی نے درحقیقت پاکستان کو ایک کاز پر متحد کر دیا ہے اور عوام قومی سلامتی کے معاملے پر متحد ہو رہے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ  ہم اس حکومت کے ساتھ نہیں ہیں، کیونکہ یہ حکومت عوامی مینڈیٹ سے محروم ہے اور مودی جیسے دشمن کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی،انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کے مالی مفادات بھارت اور دیگر بیرون ملک موجود ہیں  اس لیے وہ کبھی بھارت کے خلاف کھل کر بات نہیں کر سکتے۔

 عمران خان نے دعویٰ کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ان کے مقدمات کی کارروائی رُک گئی ہے اور ان کی اپیلیں ہائیکورٹ میں نہیں لگ رہیں،انہوں نے عدالتی احکامات کے باوجود وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہ دینے پر پولیس اور انتظامیہ پر تنقید کی ، علیمہ خان ن نے بھی اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ،ان کا کہنا تھا کہ ہمیں صرف 2 وکلاء کو ملاقات کی اجازت ملی ہے جبکہ دیگر وکلاء کو روک دیا گیا۔

 علیمہ خان میڈیا کو بتایا کہ عمران خان نے جیل میں ملاقات کرنے والے بعض وکلاء کی موجودگی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا، انہوں نے وکلاء سے براہ راست پوچھا کہ آپ کو کون اندر بھیجتا ہے اور آپ یہاں کیا کرنے آئے ہیں،علیمہ خان کا کہنا تھا کہ صرف وہی وکلاء ملاقات کریں جو ان کے مقدمات سے براہ راست وابستہ ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ غیر متعلقہ وکلاء کی خفیہ ملاقاتیں ان کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہیں اور آئندہ ان سے ملاقات سے منع کر دیا جائے گا۔

 پی ٹی آئی کے بانی نے افغان مہاجرین بارے کہا کہ وہ   ہمارے مسلمان بھائی ہیں جو 3 نسلوں سے پاکستان میں مقیم ہیں،انہوں نے افغان مہاجرین کی جبری ملک بدری کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج ہم افغان بھائیوں کو زبردستی نکالیں گے، تو کل بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو سکتا ہے،انہوں نے علی امین گنڈا پور کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ہدایات دی ہیں۔

 عمران خان نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کی  بلکہ کہا یہ فوج ہماری ہے، ہم ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت پاکستان میں دہشتگردی پھیلا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت اور دہشتگردوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب کردیا