سلامتی کونسل اجلاس میں کس نے خواجہ آصف کے پیچھے بٹھایا؟ڈاکٹر شمع جونیجو نے قلعی کھول دی

Sep 28, 2025 | 18:13:PM
سلامتی کونسل اجلاس میں کس نے خواجہ آصف کے پیچھے بٹھایا؟ڈاکٹر شمع جونیجو نے قلعی کھول دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(انور عباس)سماجی کارکن اور سوشل میڈیا پر زیر بحث متنازعہ کردار ڈاکٹر شمع جونیجو نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس میں خواجہ آصف کے پیچھے بٹھانے کے حوالے سے سارا کچا چٹھا کھول دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں کس نے خواجہ آصف کے پیچھے بٹھایا؟اس حوالے سے  شمع جونیجو نے قلعی کھول دی۔

متنازع شمع جونیجو نے وزیر دفاع خواجہ آصف اور دفتر خارجہ کے دعوؤں کا پول کھول دیا،خواجہ آصف کے انجان بننے اور دفتر خارجہ کے لیٹر آف کریڈنس میں نام شامل نہ  ہونے کا جھوٹ بے نقاب کر دیا،وزیر اعظم کی آشیرباد سے وفد کا حصہ ہونے اور خواجہ آصف سے مسلسل رابطے کا دعویٰ کر دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ڈاکٹر شمع جونیجونے تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ ‏میں  پچھلے کئی مہینوں سے پاکستان اور وزیراعظم ‎شہباز شریف کے لئے کام کر رہی تھی!پاک بھارت جنگ کے دوران میرے پالیسی بریفس، ایڈوائس، اور پوائنٹس سب کچھ ریکارڈ کا حصہ اور محفوظ ہے،مجھے وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی تقریر لکھنے کا ٹاسک دیا،مجھے وزیر اعظم شہباز شریف نے خود وفد کا حصہ بنایا، میرا نام باقاعدہ ایڈوائزر کے طور پر شامل کیا گیااور میرا سیکیورٹی پاس بھی اسی حوالے سے ایشو کیا گیا۔

ڈاکٹر شمع جونیجو کاکہناتھا کہ  میں نے ان کی ٹیم کے ساتھ مل کے دن رات کام کیا،میں نے اُن کے ساتھ سفر کیا،میں نے اُن کے اور ٹیم کے ساتھ ایک ہی ہوٹل میں قیام کیا۔

شمع جونیجو نے وزیر اعظم شہباز شریف کا نام لئے بغیر اشارہ دیتے ہوئے کہاکہ میں اُن کی بِل گیٹس جیسی اہم ترین سائیڈ لائین میٹنگس کا حصہ بنی،اور ان (سائیڈ لائن میٹنگز) کی فوٹیج ٹی وی پر بھی آئیں، ڈاکٹر شمع جونیجو نے دفتر خارجہ کے ٹویٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ  کلائیمیٹ کانفرنس میں وزیراعظم کے پیچھے میں اور اسحاق ڈار صاحب ساتھ بیٹھے ہوئے تھے،اسحاق ڈار کی منسٹری نے میرے بارے میں ٹویٹ کیا ہے کہ میں وفد کا حصہ نہیں تھی،اس کانفرنس کے بعد مجھے پروٹوکول ٹیم والے اے  آئی کانفرنس میں لے گئے،اے آئی کانفرنس میں خواجہ آصف کے پیچھے بلال اور میں سارا وقت نہ صرف ساتھ بیٹھے رہے بلکہ  بلال نئی تقریر بھی لکھتے رہے، اس تقریر کے بعد ہم نے مل کے چائے پی، گاڑی کے انتظار میں چالیس منٹ ساتھ بیٹھے، دوبارہ تصویریں لیں، اور ایک ہی کار میں تینوں ساتھ واپس ہوٹل بھی آئے۔

ڈاکٹر شمع جونیجو نے کہاکہ خواجہ صاحب کار میں پیچھے میرے ساتھ ہی بیٹھے تھے،آخری دن وزیراعظم کی تقریر کے وقت بھی میں سب کے ساتھ اقوام متحدہ میں تھی جہاں خواجہ آصف میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، ہم سب نے مل کے وزیراعظم کے لئے تالیاں بجائیں،وزیراعظم کی تاریخی تقریر صرف میری لکھی ہوئی نہیں تھی، ہم سب کے ٹیم ورک کا حصہ تھی،ہم سب کی محنت شامل تھی۔

ان کاکہناتھا کہ میری واپسی کی فلائیٹ بھی پہلے ہی طے تھی،مجھے مشن پروٹوکول والے خود ایئرپورٹ تک ڈراپ کرنے آئے،اب خواجہ صاحب ایسے بیان کیوں دے رہے ہیں؟اور کس ایجنڈے کے تحت  اپنی حکومت کے ایک تاریخی دورہ کو بدنام کررہے ہیں، وزیراعظم کو اُن سے پوچھنا چاہیئے!کیونکہ وزیر اعظم شہباز شریف کی اتھارٹی چیلنج ہوئی ہے، میری نہیں!

ڈاکٹر شمع جونیجو نے ایکس پر اپنے سیکیورٹی پاس اور دورے کی تصاویر بھی جاری کر دیں۔

یادرہے کہ شمع جونیجو کا نام وزہر اعظم کی جگہ خواجہ آصف کے سلامتی کونسل کے فلسطین کے حق میں خطاب کے بعد سامنے آیا،سوشل میڈیا پر صارفین نے شمع جونیجو کو اسرائیل سے ہمدردی رکھنے والا متنازع کردار قرار دیا۔

وزیر دفاع نے اپنے ٹویٹ میں دوران خطاب اپنے پیچھے براجمان شمع جونیجو سے لا علمی کا اظہار کیا تھا،وزیر دفاع نے اپنے ٹویٹ میں شمع جونیجو کے عقبی نشست پر بیٹھنے کی ذمہ داری دفتر خارجہ پر ڈالی تھی۔دفتر خارجہ کی جانب سے بھی شمع جونیجو سے لا علمی کا اظہار کیا گیا۔

دفتر خارجہ نے بھی شمع جونیجو کا نام لیٹر آف کریڈنس میں شامل نہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا،دفتر خارجہ نے لیٹر آف کریڈنس نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دستخط سے جاری ہونے کا دعوی کیا تھا،ڈاکٹر شمع جونیجو نے اپنے اسرائیل کیلئے ہمدردی رکھنے کے تاثر کی بھی تردید کر دی۔

ان کاکہناتھا کہ ‏میں ایک اکیڈیمک ہوں،میرے 2018کے ٹویٹ کو لے کے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ میں پرو اسرائیل ہوں جبکہ میں2023سے تقریباً روزانہ غزہ کے قتل عام اور نیتن یاہو کے خلاف لکھ رہی ہوں،لیکن وہ کسی کو نظر نہیں آرہا۔ڈاکٹر شمع جونیجو نے کہاکہ پاکستان کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے میرے بیانات عرب ممالک کے ابراہام اکارڈز کے دوران تھے، میں نے غزہ جنگ کے بعد سے ہمیشہ اسرائیلی مظالم کی سخت مذمت کی ہے اور ہمیشہ کرتی رہونگی،ابھی UNGA اجلاس میں پاکستان کے وفد کے ساتھ ہمارے واک آؤٹ کی ویڈیوز تاریخ کا حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:معروف پنجابی گلوکار ٹریفک حادثے میں شدید زخمی

دیگر کیٹیگریز: دنیا
ٹیگز: