ڈاکٹر گوہر اعجاز نے غیر منصفانہ ٹیکس وصولیوں پر سوال اٹھا دیا،غیر مساوی ٹیکس نظام پر شدید تحفظات کا اظہار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم)چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے غیر منصفانہ ٹیکس وصولیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہےکہ کاروباری طبقہ اور تنخواہ داروں کو غیر مساوی ٹیکس نظام پر شدید تحفظات ہیں،حکومت ٹیکس وصولیوں میں اضافے کا دعویٰ کر رہی ہے ،تنخواہ داروں اور کاروباری طبقے پر بے تحاشا بوجھ غیر منصفانہ ٹیکس نظام کا ثبوت ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایکس پر جاری کردہ ایک پیغام میں چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ ڈاکٹر گوہر اعجاز کا کہنا ہے حکومت نے گذشتہ برس 5.83 ٹریلین روپے کا انکم ٹیکس جمع کیا،2023-24 میں حکومت نے انکم ٹیکس وصولیوں کی مد میں 4.57 ٹریلین روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا تھا ،انکم ٹیکس وصولیوں میں ریکارڈ اضافہ عوام میں بے چینی پیدا کررہا ہے،حکومت نے گذشتہ برس تنخواہ دار طبقے سے 575 ارب روپے ٹیکس وصول کیا،2023-24 میں تنخواہ دار طبقے سے 364 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا تھا ،بزنس کمیونٹی سے انکم ٹیکس کی مد میں گذشتہ برس 5.3 ٹریلین روپے وصول کیے گئے،بزنس کمیونٹی نے 2023-24 میں 4.1 ٹریلین روپے کا انکم ٹیکس جمع کرایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرائیویٹ لمٹیڈ کمپنیز نے 1.3 ٹریلین روپے کا انکم ٹیکس جمع کرایا ،لسٹڈ کمپنیز سے 866 ارب اور بینکنگ کمپنیز سے 930 ارب روپے کا انکم ٹیکس وصول کیا گیا،ایسوسی ایشن آف پرسنز اور دیگر افراد نے بالترتیب 214 ارب اور 1.12 ٹریلین روپے کا انکم ٹیکس جمع کرایا ،پائیدار معیشت کے لیے متوازن ٹیکس نظام کی اشد ضرورت ہے،2025-26 میں ڈائریکٹ ، ان ڈائریکٹ ٹیکس ، پیٹرولیم لیوی اور صوبائی ٹیکس محاصل سے ٹیکس جی ڈی پی 15 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور سعودی عرب میں اقتصادی تعاون کا فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق