امریکی فوجیوں پر فائرنگ کرنے والا سی آئی اے کا ایجنٹ نکلا،حکام کی تصدیق

Nov 28, 2025 | 10:00:AM
 امریکی فوجیوں پر فائرنگ کرنے والا سی آئی اے کا ایجنٹ نکلا،حکام کی تصدیق
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے کے بعد ایف بی آئی نے واشنگٹن اور سان ڈیاگو میں متعدد گھروں کی تلاشی لی ہے اور مشتبہ شخص کے گھر سے الیکٹرانک آلات اپنی تحویل میں لیے ہیں۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کے مطابق مشتبہ حملہ آورکے گھر سے الیکٹرانک آلات بشمول موبائل فونز، لیب ٹاپس اور آئی پیڈز کو قبضے میں لیا گیا ۔
مشتبہ حملہ آور واشنگٹن میں اہلیہ اور 5بچوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھا۔
امریکی حکام نے تصدیق کی کہ 29 سالہ مشتبہ حملہ آور افغان شہری رحمان اللہ ماضی میں افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ کے لیے کام کرتا رہا ہے۔
ماضی میں امریکی حکومت کے لیے کام کرنے کی وجہ سے رحمان اللہ کو امریکا آنے کی اجازت دی گئی۔

 تفتیش کاروں کے مطابق حملہ آور  نے اپنے ایک ساتھی افغان کمانڈر کو پناہ نہ ملنے پر ذہنی دباؤ میں تھا۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ایسے افراد کو امریکہ آنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی، واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے گرفتار شخص کے رشتہ داروں سے بھی تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام نے افغان شہریوں کے تمام پناہ اور امیگریشن کیسز کا دوبارہ جائزہ شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیپلز پارٹی کا 58 واں یومِ تاسیس، ملک بھر میں ضلعی سطح پر جلسوں کا اعلان

حملہ آور 29 سالہ افغان شہری تھا جو صدر بائیڈن کے دور میں متعارف کرائے گئے پروگرام کے تحت 2021 میں امریکہ آیا تھا، جبکہ اس کی پناہ کی درخواست رواں سال منظور ہوئی تھی۔

حملہ آور نے پہلے ایک خاتون گارڈ کو گولی ماری اور پھر اس کا ہتھیار چھین کر دوبارہ فائرنگ کی،جب اس نے دوسرے گارڈ کو نشانہ بنایا تو موجود دیگر گارڈز نے اسے گولی مار دی، امریکی حکام کے مطابق وہ واشنگٹن میں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔