ایک لاکھ فلسطینی  پابندیوں کے باوجود مسجد الاقصیٰ میں جمعہ پڑھنے میں کامیاب

Feb 28, 2026 | 17:13:PM
 ایک لاکھ فلسطینی  پابندیوں کے باوجود مسجد الاقصیٰ میں جمعہ پڑھنے میں کامیاب
کیپشن: مسجد اقصیٰ میں رمضان کے دوسرے جمعہ کی نماز میں شریک ہونے کے لئے ہزاروں افراد فلسطین کے مختلف علاقوں سے آئے، ان میں سے بہت سے نماز پڑھنے سے مھروم رہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)رمضان المبارک کے دوسرے جمعہ کو اسرائیلی پابندیوں کے درمیان 100,000 افراد نے مسجد الاقصیٰ میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ ہزاروں نمازی مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کر رہے ہیں، جب کہ ہزاروں  دیگر مطلوبہ اجازت نامے ک ساتھ لانے کے باوجود واپس چلے گئے۔ اسرائیل نے فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقوں سے آنے والے زائرین کو صرف دس ہزار کی تعداد میں مسجد تک آنے کے اجازت نامے دیئے۔ 

Caption دریائے اردن کے مغربی کنارے سے یروشلم کی طرف آنے کے لئے اسرائیل کی قلندریہ سکیورٹی چیک پوسٹ پر مسلمان آگے جانے کی اجازت ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ 

اسرائیل کی جانب سے  مشرقی یروشلم میں بیت المقدس  تک رسائی پر سخت پابندیاں عائد کیے جانے کے باوجود تقریباً 100,000 فلسطینی نمازیوں نےرمضان کے دوسرے جمعہ  کی نماز  مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ادا کی۔

الجزیرہ نیوز  کی ایک ٹیم نے اطلاع دی ہے کہ شہر کے ارد گرد اسرائیلی فورسز کی بھاری تعیناتی کے درمیان نمازیوں کو جمعہ کے روز مکمل سیکورٹی سکریننگ  کے بعد آگے جانے دیا گیا۔ یروشلم کے شمال میں  فلسطینی ریاست کا حصہ تسلیم کئے جانے والے علاقے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے ہزاروں افراد خصوصی اجازت نامے حاصل کر کے جمعہ کی نماز مسجد اقصیٰ میں پڑھنے کی غرض سے یروشلم ککی طرف آئے تو انہیں قلندریہ چیک پوسٹ پر روکا گیا اور مکمل سکریننگ کے سست  رفتار عمل سے گزارا گیا۔ گزشتہ جمعہ بھی ایسا کی کیا گیا تھا ۔ آج بھی فلسطین کے علاقے مغربی کنارے میں قلندیا چوکی پر فلسطینیوں کا ہجوم رہا۔ بہت سے لوگ اجازت نامے موجود ہونے کے باوجود قلندریہ چوکی سے آگے نہ جا سکے۔

یہ بھی پڑھیئے:  رمضان کریم کا پہلا جمعہ، اسرائیل نے ہزاروں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ جانے کی اجازت نہیں دی 
اسرائیلی حکام نے رمضان کے آغاز میں ہی روزانہ کی اجازت کے ساتھ نماز جمعہ کے لیے صرف 10,000 فلسطینی نمازیوں کے داخلے کو محدود کرنے کے لیے قوانین نافذ کیے تھے -  گزشتہ سالوں میں رمضان کے دوران ہر جمعہ فلسطین سے لاکھوں افراد مسجد اقصیٰ آ کر نماز جمعہ ادا کرتے رہے ہیں۔ 

الجزیرہ نیوز نے بتایا کہ نئے اسرائیلی قوانین کے تحت صرف 55 سال سے زیادہ عمر کے مرد، 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین اور 12 سال سے کم عمر کے بچوں کو، کسی رشتہ دار کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت ہے۔

زائرین کو مغربی کنارے میں واپس آنے پر کراسنگ پر ڈیجیٹل تصدیق کے طریقہ کار کو مکمل کرنے کا بھی پابند کیا گیا ہے۔ 

فلسطینی نمازی رمضان کے مقدس مہینے کے دوسرے جمعہ کی دوپہر کی نماز میں شرکت کے لیے یروشلم کے پرانے شہر کی گلیوں سے ہوتے ہوئے مسجد اقصیٰ کی طرف جا رہے ہیں

پابندیوں کے ساتھ ساتھ، اسرائیلی حکام نے حال ہی میں یروشلم کے 280 رہائشیوں پر مسجدِ اقصیٰ جانے پر  پابندی کا اعلان کیا، اِن میں مذہبی شخصیات، صحافی، اور رہائی پانے والے قیدیوں کے نام شامل ہیں۔ پابندی کی زد میں آنے والے یروشلمی مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز میں شرکت سے روک دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیئے: صورتحال کشیدہ:ایران کے یو اے ای، ابوظہبی، قطر، کویت ،ریاض اور بحرین میں امریکی ائیربیسز پر حملے 

رمضان المبارک کے دوران اہلِ اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد الاقصیٰ تک فلسطینیوں کی رسائی کو محدود کرنے کے اقدام کو وسیع پیمانے پر فلسطینی برادریوں پر دباؤ ڈالنے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کی فلسطینی ثقافتی شناخت کو مٹانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے، یروشلم کو  فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اکتوبر 2023 میں غزہ  کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے پابندیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

Caption مسلمان مسجد اقصیٰ کے احاطے میں جمعہ کی نماز ادا کر رہے ہیں ۔ پیچھے گنبدِ صخری دکھائی دے رہا ہے۔  فوٹو: اے ایف پی


اجازت کے باوجود مکر گئے۔
پابندیوں کے باوجود، مسجد میں حاضری 10,000 زائرین کی متوقع حد سے کافی زیادہ تھی، جیسا کہ یہ پچھلے ہفتے تھا، جب یروشلم کے اسلامی وقف، جو کمپاؤنڈ کا انتظام کرتی ہے، نے کہا کہ 80،000 افراد نے رمضان کے پہلے جمعہ کی نماز میں شرکت کی۔

اس کے باوجود بہت سے فلسطینی جنہوں نے الاقصیٰ پہنچ کر  جمعہ کی نماز میں شرکت کی کوشش کی، جن میں سے کچھ نے کہا کہ ان کے پاس ضروری اجازت نامے ہیں، اسرائیلی حکام نے خود  اپنے دیئے ہوئے اجازت ناموں کو واپس لے لیا اور بہت سے اجازت یافتہ لوگ مسجد تک جانے سے مھروم رہے۔

ہیبرون سے سفر کرنے والے نجاتی اویدا نے  ایک صحافی کو بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اجازت نامہ پیش کرنے کے باوجود اسے واپس کر دیا۔

یہ بھی پڑھیئے: امریکا اور اسرائیل نے ملکر ایران پر حملہ کردیا،تہران کا جوابی وار،تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھا 

" قابض کا دعویٰ ہے کہ اس نے سہولت فراہم کی ہے، لیکن طریقہ کار سخت ہے،" انہوں نے کہا۔ "میں اقصیٰ میں  صرف نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ مجھے کیوں روکا جا رہا ہے؟"

ایک اور شخص، 58 سالہ علی نواس نے ایک انترنیشنل خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ وہ اور اس کی اہلیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے نابلوس سے ایک گھنٹے سے زیادہ کا سفر کر کے آئے، اس کی بیوی کے پاس اجازت نامہ ہونے کے باوجود اسے قلندیہ چوکی  سے واپس بھیج دیا گیا۔  "مجھے اُس کے ساتھ واپس جانا پڑا۔ وہ اکیلی نابلوس واپس کیسے جا سکتی تھی۔" انہوں نے کہا.

یہ بھی پڑھیں: ایرانی میزائل حملے میں ابوظہبی میں شہری جاں بحق، امارات اور بحرین کی اپنی خودمختاری پر حملوں کی شدید مذمت