امریکا اور اسرائیل نے ملکر ایران پر حملہ کردیا،تہران کا جوابی وار،تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھا

Feb 28, 2026 | 11:31:AM
امریکا اور اسرائیل نے ملکر ایران پر حملہ کردیا،تہران کا جوابی وار،تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کردیا ، جس کے بعد تہران سمیت  مختلف شہروں کے کئی مقامات پر میزائل گرنے اور دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

 خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل کی جانب سے  آیت اللہ خامنہ ای کے دفاتر کے قریب ابتدائی حملہ کیا گیا، صدارتی دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا، اسرائیل نےتہران سمیت کئی شہروں میں 30 مقامات پر میزائل داغ دیئے۔

 ذرائع کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ابھی تہران میں نہیں ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکا بھی اس حملے میں شریک ہے، امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا ہے، ایران پر حملے مشترکہ فوجی آپریشن کا حصہ ہیں، اسرائیلی حکام کے مطابق آپریشن کا منصوبہ مہینوں پہلے بنا لیا تھا۔

خبر ایجنسی کے مطابق تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی اطلاع ملی ہے، تہران یونیورسٹی کی شاہراہ اور جمہوری علاقے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر بھی حملہ کیا گیا ہے، ایرانی فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں، عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے مرکزی دفتر کو نشانہ بنایا گیا، صدارتی دفتر پر بھی حملہ ہوا، تہران کے بعد اصفہان، قم، کرج اور کرمان شاہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ایران میں فون اور انٹر نیٹ سروس معطل ہو گئی ہے، سٹاک مارکیٹ بھی کریش کر گئی ہے، ٹریڈنگ معطل ہو گئی، شہری تہران چھوڑ کر جانے لگے، پٹرول پمپوں پر رش لگ گیا ہے۔ 

خبر ایجنسی کے مطابق امریکی سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ قطر میں امریکی شہری اگلے حکم تک شیلٹر میں رہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف حفاظتی حملہ شروع کر دیا ہے، اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، شہریوں کو زیر زمین بنکرز میں رہنے کی ہدایت کر دی،اسرائیلی حکام نے اسرائیل بھر میں سکول بند کر دیئے ہیں۔

اسرائیلی دفاعی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں اسرائیل کا آپریشن امریکا کے ساتھ مل کر جاری ہے، ایران پر آپریشن کا منصوبہ مہینوں پہلے بنایا گیا تھا،امریکی حکام نے بھی مشترکہ حملے کی تصدیق کردی۔

اسرائیل نے اپنی فضائی حدود کو شہری پروازوں کے لیے بند کر دیا،عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کردی۔

خبر ایجنسی  کے مطابق قم، اصفہان، تبریز، کرمانشاہ،کرج اور خرم آباد میں دھماکے ہوئے،تہران میں یونیورسٹی اسٹریٹ ، جمہوری اسکوائر اور حسن آباداسکوائر پر عمارتوں کو نشانہ بنایاگیا۔

روسی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ فضائی حملہ اسرائیل کی جانب سے کیا گیا ہے جس میں کئی فوجی کمانڈر مارے گئے ہیں، حملے میں انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایاگیا۔

دوسری جانب ایران نے امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب میزائل داغ دیئے۔

ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل بھر میں سائرن بج اٹھے ہیں، ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل میں شہریوں کو بنکرز میں پناہ لینے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب 30 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے جا چکے ہیں، اسرائیل کا دارلحکومت تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھا جبکہ اسرائیل کے شمالی شہر حیفہ میں بھی دھماکے سنے گئے۔

ایرانی پاسدارن انقلاب نے کہا ہے کہ ایران کے دشمن کی جارحیت کا جواب دیا جا رہا ہے، ایران کی جانب سے وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون چلا دیئے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے لوگوں کو فوری پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کردی ہے، اسرائیلی فوج نے لوگوں کو ایرانی میزائل کی ویڈیوز بنانے سے روک دیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اسرائیل اور امریکا کے حملوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اب صورتحال ان کے قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔