گلزار پہلوان رستمِ پاکستان بن گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ارسلان حسین درانی) گوجرانوالہ اور پاکستان آرمی کے ہونہار پہلوان گلزار بٹ پہلوان عرف گلو بٹ پہلوان رستم پاکستان بن گئے ۔
گلزار بٹ پہلوان نے رستم پاکستان ٹائیٹل کے لئے فائنل دنگل میں محمد عدنان ٹائیراں والا کو شکست دے دی۔
رستمِ پاکستان ٹائیٹل کے لئے دنگل فیصیل آباد میں ہوا۔
پاکستان آرمی کے لئے کھیلنے والے گوجرانوالہ کے گلزار گلو بٹ پہلوان نے فائینل میں مقابل کو چاروں شانے چت کر دیا اور رستم پاکستان کا ٹائٹل جیت لیا۔ یہ پاکستان میں کشتی کے روایتی کھیل میں سب سے بڑا اعزاز ہے۔
گلو بٹ پہلوان نے فائنل کشتی میں واپڈا کے محمد عدنان ٹائیراں والا پہلوان کو چت کیا ۔
پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے زیر اہتمام فائنل دنگل فیصل آباد کے نور پور میں کھیلا گیا۔
رستم پاکستان دنگل میں بیس سے زائد دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملے۔مقابلے دیکھنے کے لیے شائقین کی بڑی تعداد اسٹیڈیم میں آتی رہی۔
مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی راجہ دانیال احمد بھی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔
تقریب میں صدر پاکستان ریسلنگ فیڈریشن چوہدری ارشد ستار اولکھ، جنرل سیکرٹری پاکستان ریسلنگ ایسوسی ایشن انعام بٹ ،ڈویژنل سپورٹس آفیسر شاہ منظر فرید سمیت دیگر اہم شخصیات بھی شریک ہوئیں، جنہوں نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔
رستم پاکستان دنگل ہر 2 سال بعد ہوتا ہے۔ اس دنگل میں شریک ہونے کے لئے گراس روٹ سطح سے ضلعی، ڈویژنل اور صوبائی سطح کے دنگل ہوتے ہیں۔ تمام مراحل سے گزر کر بہترین پہلوان فائنل تک پہنچتے ہیں۔
دونوں فائنلسٹ گوجرانوالہ سے
گلزار بٹ پہلوان عرف گلو پہلوان رستم پاکستان اور عدنان پہلوان ٹائراں والا، دونوں کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔
گلزار عرف گلو پہلوان جو آج سے رستم پاکستان ہیں، وہ ورلڈ چیمپئن انعام بٹ پہلوان کے شاگرد ہیں اور گوجرانوالہ کے قدیمی اکھاڑہ جناح سپورٹس کلب میں زور کرتے رہے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر مٹی والے قدیم اکھاڑے کے پہلوان ہیں لیکن اب انٹنیشنل ریسلنگ میں ہیں اور انٹرنیشنل قوانین کے مطابق بہت اچھی کشتی (گدا کشتی)کھیلتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: ترقی یافتہ ترین ملک نے بچوں کے ٹی وی دیکھنے پر پابندی لگا دی
محمد گلزار، جنہیں اکثر گلو پہلوان کے نام سے جانا جاتا ہے، گوجرانوالہ مین بچپن سے ہی پہلوانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے فری اسٹائل ریسلنگ میں اپنی کامیابیوں کے ساتھ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پہچان حاصل کی۔
رستم پاکستان گلو پہلوا ن کے کیریئر کی کامیابیاں
رستم پاکستان ٹائٹل
آج گلزار بٹ پہلوان روایتی پاکستانی ریسلنگ (دنگل) میں افتخار کی علامت ٹائیٹل رسم پاکستان کہلانے کے مستحق قرار پائے ہیں۔ یہ پاکستان میں کسی پہلوان کے لئے سب سے بڑا ٹائیٹل ہے۔
حال ہی میں گلزار بٹ پہلوان کو بین الاقوامی مقابلوں میں بھی کامیابیاں ملی ہیں۔
اسلامک سالیڈیرٹی گیمز 2025
گلزار بٹ پہلوان نے 97 کلوگرام فری سٹائل کیٹیگری میں اسلامی ملکوں کے پہلوانوں کو پچھاڑ کر اسلامک سالیڈیریٹی گیمز میں پاکستان کے لیے برونز میڈل جیت کر ایک تاریخی سنگ میل حاصل کیا۔ انہوں نے یہ تمغہ ترکی کے رفعت گیدک کو 5-4 کے قریب سے شکست دے کر حاصل کیا۔
قومی ریکارڈ
اپنے کیریئر کے شروع میں گلزار بٹ نے 15 سال کی عمر میں سینئر نیشنل ریسلنگ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت کر پاکستان ریسلنگ کی تاریخ میں کم عمر ترین گالڈ میڈلسٹ چیمپئین ہونے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
بین الاقوامی شرکت
گلزار بٹ پہلوان نے 55 سے زیادہ ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے، دو دہائیوں (1991-2010) سے مسلسل قومی کھیلوں میں تمغے جیتے ہیں۔
پس منظر اور تربیت
گلزار بٹ پہلوان جنوبی ایشیا کی قدیم پہلوانی کے افسانوی لیجنڈ گاما پہلوان (دی گریٹ گاما) کو اپنا بنیادی الہام سمجھتے ہیں۔
ٹریننگ ہب؛ جناح ہیلتھ ریسلنگ کلب
وہ گوجرانوالہ کے شیرانوالہ باغ میں واقع قدیمی اکھاڑے جناح ہیلتھ ریسلنگ کلب میں نیشنل کوچ انعام بٹ اور دوسرے کئی ممتاز کوچز کی رہنمائی میں تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اب بھی انہیں جب موقع ملتا ہے وہ اپنے اکھاڑے مین حاضر ہو کر مقامی ساتھیوں کے ساتھ زور کرتے ہیں اور اسی کلب میں محنت (gym) کرتے ہیں۔
ذاتی لگن
گلزار بت پہلوان نے 2025 کی بین الاقوامی کامیابی کے بعد، اس نے اپنا تمغہ اپنے وطن کے محافظوں اور شہداء کے نام کیا۔