آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے بیان پر وائٹ ہاؤس کاردعمل آگیا

Jun 27, 2025 | 14:52:PM
آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے بیان پر وائٹ ہاؤس کاردعمل آگیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک)وائٹ ہاؤس نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے ویڈیو بیان پر تبصرہ کردیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ ہم نے آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی ویڈیو دیکھی ہے، جب آپ کے پاس مطلق العنان حکومت ہو تو عزت بچانی پڑتی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے ویڈیو پیغام کے بعد سوشل میڈیا پر بیان جاری کیاہے۔

 اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے ساتھ ہمارے مشترکہ دشمنوں کو شکست دینے کے لیے کام جاری رکھیں گے،اپنے یرغمالیوں کو رہا کرائیں گے اور امن کا دائرہ بڑھائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ میری، اسرائیل اور یہودی عوام کی حمایت پر میں صدر ٹرمپ کا بہت شکر گزار ہوں۔اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے پیغام کے ساتھ اپنی اور امریکی صدر کی گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے ایک تصویر بھی شیئر کی۔

اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امریکا اسرائیل کو بچانے کیلیے جنگ میں کودا مگر کچھ حاصل نہیں کر سکا۔اپنے پہلے ویڈیو پیغام میں اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف فتح پر قوم کو مبارکباد دیتا ہوں،ایران نے اسرائیل اور اس کے تمام دعوؤں کو کچل کررکھ دیا، 9 کروڑ ایرانیوں نے متحد ہوکر فوج کا ساتھ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی سپریم لیڈر کا امریکہ کو دو ٹوک پیغام

ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ہماری جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، ایرانی فوج ہر طرح کی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، ایرانی عوام تمام اختلافات بھلا کر متحد ہو کر کھڑی ہوئی، ایرانی عوام نے دنیا کو پیغام دے دیا کہ ہم ایک ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کے منہ پر زوردار طمانچہ مارا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے ایرانی عوام کو سرنڈر کرنے کی دھمکی دی، جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ ایرانیوں نے کبھی سرنڈر نہیں کیا، اللہ کے فضل سے ایرانی عوام متحد ہوکر کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت براہ راست جنگ میں داخل ہوئی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو صیہونی حکومت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی، صیہونی حکومت تقریباً گر چکی ہے، امریکا اسرائیلی حکومت کو بچانے کی کوشش میں جنگ میں داخل ہوا لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔