شرح سود میں اضافہ ’’معاشی گھٹن‘‘کو بڑھائے گا: ایس ایم تنویر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز ) یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے ممتاز رہنماایس ایم تنویر نے سود کی شرح میں 100 بیس پوائنٹ اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کے باوجود عالمی سطح پر اس قدر زبردست اضافہ کہیں نہیں دیکھا گیا ہے،انہوں نے متنبہ کیا کہ اس مالیاتی سختی سے قومی خزانے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی 60 ٹریلین روپے قرضے کے موجودہ حجم کے تناظر میں شرح سود میں محض ایک فیصد اضافے سے حکومت کو شرح سود کی مد میں اضافی 600 ارب روپے ادا کرنے ہوں گے، انہوں نے مزید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مارک اپ کی ان ممنوعہ شرحوں کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو کہ کاروبار کرنے کی لاگت کے ساتھ ساتھ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حد سے زیادہ شرح سود اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کا دوہرا دباؤ صنعتی ترقی کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بند صنعتی یونٹس میں واضح اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مانیٹری پالیسی میں اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید ڈی-انڈسٹریلائزیشن کو روکا جا سکے اور نجی شعبے کو معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سانس لینے کا موقع مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں :قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو نکالنے کا حکم