نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان ، شرح سود میں ایک فیصد اضافہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ملک میں شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا گیا۔
اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 100 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کردیا،اگلے دو ماہ کے لئے شرح سود 10.50فیصد سے بڑھ کر 11.50 فیصد کردیا گیا۔
The Monetary Policy Committee decided to raise the policy rate by 100 basis points to 11.50% w.e.f 28-Apr-2026 in its meeting held on 27-Apr-2026.
— SBP (@StateBank_Pak) April 27, 2026
معاشی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ ملک میں مہنگائی کا دباؤ اور عالمی سطح پر جاری غیر یقینی صورتحال ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ۔
اعداد و شمار کے مطابق 23 اپریل تک ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 14 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ حالیہ دنوں میں پیٹرولیم اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ بھی مہنگائی کی توقعات کو مزید بڑھا رہا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی معیشت “غیر معمولی اور غیر یقینی خطرات” کا سامنا کر رہی ہے، جن میں صنعتی پیداوار میں کمی اور غربت میں اضافے جیسے خدشات شامل ہیں۔
بینکرز اور ماہرین کی رائے میں شرح سود میں اضافہ تقریباً یقینی تھا، تاہم اس کی مقدار پر اختلاف پایا جاتا ہے، کچھ ماہرین کے مطابق 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ محتاط قدم ہوتا، جبکہ دیگر کے مطابق 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ مہنگائی پر قابو پانے اور مالی استحکام کے لیے ضروری تھا۔
ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیاں اس وقت غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، جہاں تیل، کرنسی، شیئرز اور بانڈز کی قیمتیں ایک ساتھ مختلف سمتوں میں حرکت کر رہی ہیں، جس سے پالیسی سازی مزید مشکل ہو گئی ہے۔