تنظیمات اہل سنت کا اجلاس، مساجد و مدارس کو فوری کھولنے اور کارکنان کو رہا کرنے کا مطالبہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)تنظیماتِ اہلِ سنت پاکستان کے زیرِ اہتمام اہلِ سنت جماعتوں، خانقاہوں، وفاقوں اور اداروں کی مشترکہ مجلسِ شوریٰ کا ہنگامی اجلاس ہوا،اجلاس کی میزبانی سابق وفاقی وزیر سید حامد سعید کاظمی نے کی ۔
جمعیت علماء پاکستان و ملی یکجہتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر الوری،آستانہ عالیہ قادریہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ پیر میاں عبدالخالق القادری، پیر آف مانکی شریف پیر زادہ محمد امین قادری سمیت دیگر شریک ہوئے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں طے پانے کے باوجود مساجد،مدارس اور خانقاہیں کھولنے،خطباء و علماء کو رہا کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔ مزید مساجد و مدارس کو بند کیا جا رہا ہے اور علمائے کرام کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ہم دوبارہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اہلِ سنت کی مساجد و مدارس کو فوری طور پر کھول کر مقامی کمیٹیوں کے سپرد کرے اور بے گناہ کارکنان کو فوری طور پر رہا کرے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کی کارروائیوں سے یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ یہ صرف ٹی ایل پی کے خلاف آپریشن نہیں بلکہ پورے اہلِ سنت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اگر اس تاثر کو عملی اقدامات کے ذریعے ختم نہ کیا گیا تو ملک بھر سے سخت ردعمل آئے گا۔
تنظیمات اہل سنت کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ لبیک پاکستان پر عائد پابندی کو مسترد کرتے ہیں،حکومت ریفرنس سپریم کورٹ میں پیش کرکے پابندی کے جواز کو ثابت کرے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ مریدکے پر عدالتی کمیشن قائم کیا جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔ حکومت شہداء کی لاشیں ورثاء کے حوالے کرے اور زخمیوں کا بہترین علاج کروائے۔ سانحہ مریدکے میں قادیانی سازش اور مذہبی تعصب پر انکوائری کروائی جائے۔
تنظیمات اہل سنت نے کہا ہے کہ مینارٹی ایکٹ 2025ء اور نیشنل کمیشن فار مینارٹی کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ ایکٹ قانونِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ اور قانونِ ختمِ نبوت ﷺ کو عملاً غیر مؤثر کرنے کے مترادف ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ فلسطین پر اسرائیلی جارحیت اور پاکستان میں طالبان کی دراندازی کی مذمت کرتے ہیں۔ مودی حکومت کی بریلی شریف میں آپریشن اور شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتی توقیر رضا خان قادری کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی سے منظور ہونے کیا گیا وقف بل مسترد کرتے ہیں حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اہلِ سنت پاکستان کے 80 فیصد ہیں، ان کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ 25جنوری 2026 کو مینار پاکستان لاہور میں ملک گیر سنی کانفرنس ہوگی۔
یہ بھی پڑھیںوزیرِ اعظم آزاد کشمیر استعفیٰ دیں گے یا تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے؟