وقت تیزی سے گزرتا کیوں محسوس ہوتا ہے۔۔۔؟

Oct 26, 2025 | 13:46:PM
وقت تیزی سے گزرتا کیوں محسوس ہوتا ہے۔۔۔؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24 نیوز)اکثر ہم سب یہی کہتے ہیں کہ ”پتا ہی نہیں چلتا، دن کیسے گزر جاتے ہیں!“ مگر کیا واقعی وقت تیز ہو گیا ہے یا صرف ہمیں ایسا لگتا ، سائنسدانوں نے پتا لگا لیاہے۔

سائنسدانوں نے اس دلچسپ سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ایک انوکھا تجربہ کیا، جس میں مشہور ٹی وی سیریز ”الفریڈ ہچکاک پریزنٹس“ کی ایک پرانی قسط کو استعمال کیا گیا۔

سائنسدانوں نے دنیا کے مختلف حصوں سے 577 افراد (عمر 18 سے 88 سال) کے دماغوں کا فنکشنل ایم آر آئی ( ائف ایم آر آئی) کے ذریعے جائزہ لیا گیا۔

 انہیں ”سٹاپ! یو آر ڈیڈ“ نامی ایک آٹھ منٹ کی قسط دکھائی گئی اور دیکھنے کے دورانِ ان کے دماغی ردعمل کا باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ عمر رسیدہ افراد کے دماغ نئی معلومات کو کم رفتار سے پروسیس کرتے ہیں، یعنی وہ ایک ہی وقت میں کم واقعات کو یاد رکھتے ہیں۔

جبکہ نوجوان دماغ زیادہ سرگرم رہتے ہیں اور زیادہ تفصیلات ریکارڈ کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، جب دماغ کم چیزیں نوٹ کرتا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے۔

 اسی لیے عمر بڑھنے کے ساتھ ہمیں دن چھوٹے اور سال مختصر لگنے لگتے ہیں۔

یہ نتیجہ مشہور فلسفی ارسطو کی اس پرانی بات کی تائید کرتا ہے کہ ”جتنا زیادہ انسان نئے تجربات کرتا ہے، اتنا ہی وقت لمبا محسوس ہوتا ہے۔“

سائنسدانوں کے مطابق وقت کو روکنا ممکن نہیں، لیکن ہم وقت کے احساس کو سست ضرور کر سکتے ہیں۔

نئی چیزیں سیکھنا، سفر کرنا، یا روزمرہ کی روٹین میں تبدیلی لانا یہ سب دماغ میں نئے واقعات پیدا کرتے ہیں، جس سے ہمیں لگتا ہے کہ وقت آہستہ گزر رہا ہے۔

دوسرے لفظوں میں، وقت تیز نہیں ہوتا، ہمارا دماغ سست ہوجاتا ہے۔