چین اور پاکستان کا دفاع، سلامتی اور انسداد دہشتگردی تعاون میں مزید وسعت دینے کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچ گئے ہیں، وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورۂ چین کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے “نئے دور کی بین الاقوامی برادری” کے قیام، دفاعی تعاون، اقتصادی روابط اور جدید ٹیکنالوجی میں اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے دفاع، سلامتی اور انسدادِ دہشتگردی تعاون کو مزید وسعت دینے اور “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” قائم کرنے پر اتفاق کیا، خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کردار پر بھی زور دیا گیا۔
چین نے ایک بار پھر پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ دونوں ممالک نے سی پیک 2 کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے پر اتفاق کیا، گوادر کو علاقائی رابطہ مرکز بنانے اور خنجراب راہداری کو مزید فعال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، خلائی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، پاکستانی خلا بازوں کی چین میں تربیت اور مستقبل میں چینی اسپیس اسٹیشن میں پاکستانی خلا باز کی شمولیت کا امکان بھی ظاہر کیا گیا۔
دونوں ممالک نے معدنیات، توانائی، صنعتی پارکس اور زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ چین نے 2025 سے 2029 تک پاکستانیوں کے لیے تین ہزار تربیتی مواقع فراہم کرنے کا اعلان برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو،تقویٰ اختیار کرو اور عہد کی پاسداری کرو:خطبہ حج
اعلامیے میں جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا، چین نے مسئلہ کشمیر کو تاریخی تنازع قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کی حمایت دہرائی۔
مزید برآں، چین نے پاکستان کے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں کردار، کثیرالجہتی سفارتکاری، اورایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
مشترکہ اعلامیے میں دہشتگردی کے خلاف عالمی تعاون، دوہرے معیار کی مخالفت، اور کثیر القطبی عالمی نظام کی حمایت کا اعادہ بھی شامل ہے، پاکستان نے “ون چائنا پالیسی” کی مکمل حمایت کرتے ہوئے تائیوان کو چین کا حصہ قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ اعلامیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاک چین تعلقات اب صرف تاریخی نوعیت کے نہیں رہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی، معیشت اور علاقائی تعاون پر مبنی ایک ہمہ جہت اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔