پنجاب کے سر پر دو آفتیں!
تحریر: سجاد اظہر پیرزادہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
پنجاب میں ان دنوں موسم صرف موسم نہیں رہا، یہ ایک مسلسل امتحان بن چکا ہے، صبح ہوتے ہی سورج جیسے زمین پر اتر آتا ہے، اور شام تک سڑکیں بھٹی کی طرح دہکنے لگتی ہیں، پھر یہی زمین کچھ مہینوں بعد پانی کے ریلوں کے حوالے ہو جاتی ہے،ایسا کیوں ہورہاہے؟کیا اس کا کوئی حل ہے؟
دنیا نے گرمی کو ایک ’’منظم خطرے‘‘ کے طور پر قبول کر لیا ہے، ریگستانی ممالک نے بھی اپنے شہروں کو قابلِ برداشت بنانے کے راستے نکال لیے ہیں، ایک دن ان آنکھوں نے یہ منظر دیکھا کہ سعودی عرب کے بازاروں میں باریک پانی کی پھوار چلتی ہے تو دہکتی فضا کیسے مہربان ہوجاتی ہے، دبئی اور ابوظہبی میں کئی پیدل راستوں پر کولنگ اور مسٹ سسٹمز عام ہیں، قطر نے تو اس ہمدرد تصور کو بڑے انفراسٹرکچر تک پھیلا دیا ہے۔جاپان میں مسٹ اسپرے اور ہیٹ ویو مینجمنٹ کے اقدامات نسبتاً منظم ہیں، جبکہ آسٹریلیا میں زیادہ توجہ ہیٹ ایکشن پلانز اور کولنگ سینٹرز پر دی جاتی ہے،چین کے بعض شہروں میں بھی شدید گرمی کے دوران پانی کے سپرے اور عارضی کولنگ اقدامات کیے جاتے ہیں۔
یہ سب دیکھ کر میرے ذہن میں سوال اٹھتا ہے، اگر وہ ملک جو کبھی ریگستان کہلاتے تھے، اپنے لوگوں کو ریلیف دے سکتے ہیں تو ہمارے حکمران کیوں نہیں؟ لاہور، ملتان، بہاولپور، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان جیسے شہر ہر سال شدید گرمی جھیلتے ہیں، دوپہر کے وقت سڑکوں پر چلنا آسان نہیں رہتا، لوگ دیواروں کے سائے ڈھونڈتے ہیں، بسوں کے انتظار میں کھڑے مسافر تھک جاتے ہیں، اور بازاروں میں زندگی جیسے رک سی جاتی ہے، مسئلہ صرف گرمی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے شہر انسانوں کے لیے کم اور گاڑیوں کے لیے زیادہ بنا دیے ہیں۔
اور پھر یہی موسم جب بدلتا ہے تو ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے، پہلے زمین جلتی ہے، پھر یہی زمین پانی کو سنبھال نہیں پاتی، مون سون آتا ہے، دریا بپھرتے ہیں، بند ٹوٹتے ہیں، اور بستیوں کی بستیاں پانی میں ڈوب جاتی ہیں، اور ہم؟ ہم ہر بار یہی کہتے ہیں کہ “اس بار غیر متوقع تھا”۔
یہ غیر متوقع لفظ ہی اصل مسئلہ ہے، پنجاب کے کئی علاقے ہر سال اسی خطرے میں رہتے ہیں، دریائے سندھ کے کنارے راجن پور، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ اور لیہ ایسے علاقے ہیں جہاں ہر بار لوگ پانی کے ساتھ جیتے اور مرتے ہیں، چناب کے اطراف جھنگ، چنیوٹ اور ملتان بھی محفوظ نہیں رہتے، راوی کے کنارے نارووال اور لاہور کے نشیبی حصے بھی پانی کی زد میں آ جاتے ہیں، ستلج کے ساتھ بہاولپور، وہاڑی، پاکپتن اور اوکاڑہ مسلسل خطرہ جھیلتے ہیں۔
سب سے زیادہ خطرناک وہ علاقے ہیں جہاں پانی دریا سے نہیں پہاڑوں سے آتا ہے، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے رودکوہی علاقے، جہاں کوہ سلیمان کے دامن سے نکلنے والے نالے اچانک فلیش فلڈ میں بدل جاتے ہیں، وہاں بارش گھنٹوں کی نہیں ہوتی، مگر اثر منٹوں میں آ جاتا ہے، لوگ ابھی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ پانی آرہا ہے، لیکن جب دیکھتے ہیں تو پانی زندگی کا نقشہ بدل چکا ہوتا ہے۔
یہ سب کچھ نیا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسے معمول بنا لیا ہے، ہر سال مون سون سے پہلے اجلاس ہوتے ہیں، رپورٹس بنتی ہیں، اور پھر سب کچھ وہیں رک جاتا ہے، اس پورے نظام میں سب سے اہم کردار پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا ہے، یہ ادارہ صرف الرٹس دینے کے لیے نہیں، بلکہ پورے صوبے کو بحران سے پہلے ہی تیار رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ تیاری کاغذ پر نہیں، زمین پر نظر آئے، ہر ضلع میں فلڈ رسپانس پلان صرف فائل میں نہ ہو بلکہ عمل میں دکھائی دے، خطرے والے علاقوں کی مسلسل نگرانی ہو، ادارے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خطرہ آنے سے پہلے لوگوں کو محفوظ جگہوں پر منتقل کرنے کا نظام کام کر رہا ہو۔
کسی بھی آفت کے وقت سب سے بڑی دولت پیسہ نہیں وقت ہوتا ہے، اس ساری آزمائش میں کچھ لوگ ایسے بھی رہے ہیں جنہوں نے کام کو فائلوں سے نکال کر فیلڈ میں لے جانے کی کوشش کی، عرفان علی کاٹھیا کو اکثر اسی حوالے سے یاد کیا جاتا ہے کہ وہ دفتری کام سے زیادہ زمینی صورتحال کو اہمیت دیتے تھے، انہوں نے بطور ڈی جی پی ڈی ایم اے صرف فائلوں پر دستخط نہیں کیے، بلکہ میدان میں موجود رہ کر بحرانوں کا سامنا بھی کیا، سیلاب ہو، بارشیں ہوں یا ہنگامی صورتحال، ہم نے دیکھا کہ ان کی انتظامی حکمت عملی میں ایک چیز نمایاں رہی، اور وہ تھی پیشگی تیاری، آج جب وہ کمشنر بہاولپور کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، تو جنوبی پنجاب کے عوام ان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے تجربے کو ایک مضبوط عوامی حفاظتی و اصلاحی نظام میں بدلیں گے، ایسے افسران ریاست کا سرمایہ ہوتے ہیں کہ بیوروکریسی صرف اختیارات کا نام نہیں، احساسِ ذمہ داری کا امتحان بھی ہے۔
اصل سوال پھر وہی رہ جاتا ہے کیا ہم صرف موسم کے بدلنے کا انتظار کرتے رہیں گے یا اپنے نظام کو بدلنے کی ہمت کریں گے؟ کیونکہ پنجاب کے لیے خطرہ صرف گرمی نہیں، صرف پانی نہیں اصل خطرہ وہ تاخیر ہے جو ہر بار نقصان کو بڑھا دیتی ہے، اور اگر یہ عادت نہ بدلی گئی، تو آنے والا موسم صرف "موسم" نہیں بدلے گا، یہ زندگیوں کا رخ بدل دے گا۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر