افغانستان میں القاعدہ اورفتنہ الخوارج کومحفوظ ٹھکانےدستیاب، طالبان رجیم اور دہشتگردوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب

Feb 26, 2026 | 11:16:AM
افغانستان میں القاعدہ اورفتنہ الخوارج کومحفوظ ٹھکانےدستیاب، طالبان رجیم اور دہشتگردوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احمد منصور)افغانستان میں القاعدہ اورفتنہ الخوارج کومحفوظ ٹھکانےدستیاب، افغان جریدہ ہشت صبح طالبان رجیم اور دہشتگردوں کے گٹھ جوڑ سے متعلق حقائق سامنےلےآیا۔

افغان جریدہ    کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے صوبہ غزنی میں القاعدہ اور فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کیلئے 4 رہائشی کمپلیکس  تعمیر کیے، جو القاعدہ اورفتنہ الخوارج کیلئےمختص ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان مقامات پر بڑے مذہبی مدارس قائم، القاعدہ اور فتنہ الخوارج کیلئے مخصوص حفاظتی انتظامات بھی کئے گئے ہیں،اقوام متحدہ نے بھی مسلسل رپورٹ کیا ہے کہ القاعدہ، فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کو طالبان کی سرپرستی حاصل ہے۔

افغان جریدہ کے مطابق طالبان رجیم دہشت گرد گروہ ہے اور کسی بھی صورت میں ان کی حمایت یا ہمدردی درست نہیں ، افغانستان پر قابض طالبان رجیم نے 30 لاکھ سے زائد افراد کو یرغمال ،لاکھوں افغانوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا ، طالبان ہر تباہی کے ذمہ دار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کے سامنے بانی کے علاوہ سب بے معنی اور بے وقعت ہے:خواجہ آصف

افغان جریدہ کے مطابق  ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن ہم آہنگی صرف افغان طالبان رجیم کے خاتمے سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے ۔

ماہرین نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کیلئےضروری ہے کہ عالمی برادری طالبان کی زیرسرپرستی دہشتگردی کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کیلئےمؤثر اقدامات کرے،پاکستان مضبوط شواہد کے ساتھ عالمی برادری کو افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں سے متعلق بارہاآگاہ کر چکا ہے۔