ارشد شریف کیس: جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

Aug 26, 2025 | 18:08:PM
ارشد شریف کیس: جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے ارشد شریف کیس کی تحقیقات کے لیے صحافی حامد میر اور ارشد شریف کی اہلیہ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے تاہم جسٹس منہاس کا کہنا ہے کہ ایک معاملہ جب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے تو اس کے متعلق ہائی کورٹ کیسے کوئی فیصلہ دے سکتی ہے۔

منگل کے روز سماعت کے دوران صحافی حامد میر اپنے وکیل بیرسٹر شعیب رزاق کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے، بیرسٹر شعیب رزاق کا کہنا تھا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کن حالات میں ارشد شریف کے خلاف 16 ایف آئی آر ہوئیں اور کن حالات میں انھوں نے پاکستان چھوڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف نے اپنے دوستوں کو پیغام پہنچایا تھا کہ وہ پاکستان واپس آرہے ہیں۔ شعیب رزاق کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ارشد شریف کا قتل کر دیا گیا، بیرسٹر شعیب رزاق کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کے قتل پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دے کر اسے کینیا بھیجا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب حامد میر پر حملہ ہوا تو سپریم کورٹ نے جوڈیشل کمیشن بنایا تھا، ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں ارشد شریف نے حامد میر پر حملے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور آج انہی کے جوڈیشل کمیشن کے لیے حاضر ہوا ہوں۔

جسٹس انعام امین منہاس نے سوال کیا کہ اگر ایف آئی اے، سپریم کورٹ، کینیا کی تحقیقات یا ایف آئی آر میں سے کوئی مختلف چیز آجاتی ہے تو آپ کیا کریں گے،اس پر شعیب رزاق کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ یہ تحقیقات کیسے کر سکتی ہیں، یہ کام بلاآخر کمیشن نے ہی کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس ایک سال کے بعد سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے، جسٹس انعام امین منہاس کا کہنا تھا کہ ایک معاملہ جب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے تو اس سے متعلق ہائی کورٹ کیسے کوئی فیصلہ دے سکتی ہے۔

دورانِ سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے سوال کیا کہ اس کیس میں جو ایف آئی آر ہوئی ہے وہ کس ڈائریکشن میں ہوئی ہے؟ ڈی آئی جی پنجاب پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے سات رپورٹیں سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہیں، ایف آئی آر درج ہو چکی ہے اور چالان بھی جمع ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کینیا میں حالات خراب ہیں لیکن یہ انویسٹیگیشن اپنے نتائج کی طرف جا رہی ہے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں دو ملزمان اشتہاری ہو چکے ہیں، درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ تین سال سے زیرِ التوا ہے اور صرف رپورٹس جمع ہونے کی حد تک چل رہا ہے۔

بیرسٹر شعیب رزاق کا مزید کہنا تھا معاملہ محض حامد میر یا میرا نہیں بلکہ یہ پورے ملک کا معاملہ ہے، عدالت نے سماعت کے بعد درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں :18 سال سے کم عمر بچوں کا ’’جووینائل شناختی کارڈ‘‘ بنوانے کا آسان طریقہ