ناروے میں دنیا کا پہلا تجارتی کاربن ڈائی آکسائیڈ ’’قبرستان‘‘ قائم 

Aug 26, 2025 | 14:22:PM
ناروے میں دنیا کا پہلا تجارتی کاربن ڈائی آکسائیڈ ’’قبرستان‘‘ قائم 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)ناروے نے ماحولیاتی تحفظ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا۔ دنیا کی پہلی تجارتی کاربن اسٹوریج سروس نے سمندر کی تہہ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ انجیکشن کا کامیاب آغاز کر دیا۔

ناردرن لائٹس کے نام سے یہ منصوبہ تیل کی بڑی کمپنیوں ایکونور، شیل اور ٹوٹل انرجیز کی شراکت داری سے چلایا جا رہا ہے۔

اس منصوبے کے تحت یورپ کے مختلف کارخانوں سے اخراج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جمع کر کے سمندر کی تہہ میں مستقل طور پر محفوظ کیا جائے گا تاکہ اسے فضا میں شامل ہونے سے روکا جا سکے۔

ناردرن لائٹس کے مینجنگ ڈائریکٹر ٹِم ہائن نے کہا کہ منصوبے کے تحت ہم نے پہلا کاربن ڈائی آکسائیڈ کامیابی کے ساتھ محفوظ کر دیا، ہمارے بحری جہاز، تنصیبات اور کنویں اب مکمل طور پر فعال ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی شہری کی قسمت جاگ اُٹھی، 10 لاکھ ڈالر جیت لیے

طریقۂ کار کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پہلے مائع شکل میں لا کر بحری جہاز کے ذریعے ناروے کے مغربی شہر برگن کے قریب اوئگارڈن ٹرمینل پہنچایا جاتا ہے، اور پھر وہاں بڑے ٹینکوں میں منتقل کرنے کے بعد اسے 110 کلو میٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے 2.6 کلو میٹر گہرائی میں سمندر کی تہہ میں داخل کیا جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC) اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ماحولیات کے تحفظ کے لیے ایک اہم آلہ ثابت ہو سکتی ہے۔