ٹرمپ نے اسلام آباد کے ایران امریکہ  مذاکرات کی میزبانی کرنے کی تصدیق کر دی

Mar 24, 2026 | 21:39:PM
  ٹرمپ نے اسلام آباد کے ایران امریکہ  مذاکرات کی میزبانی کرنے کی تصدیق کر دی
کیپشن: Caption نو اور دس مئی 2025 کو بھارتی حملوں کا دانت توڑ دینے والا جواب دیئے جانے کے بعد سے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے پرائم منسٹر کی مسلسل تعریفیں کرتے رہے ہیں، اس مین کوئی حیران کن بات نہین کہ آج انہوں نے ایران امریکہ مجوزہ جنگ بندی مذاکرات کے لئے پرائم منسٹر شہباز شریف کی پیشکش کو آسانی سے قوبل کر لیا۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے مجوزہ مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کی خبروں پر تصدیق کی مہر لگا دی۔

صدر ٹرمپ نے آج شام پاکستان کے پرائم منسٹر شہباز شریف کی ایکس پوسٹ کو اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ سے ری پوسٹ کیا ہے۔ پرائم منسٹر شہباز شریف نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر   ایران امریکہ جنگ بندی مذاکرات کی میزبانی کرنے کی خبر سنائی تھی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر  شہباز شریف کی اس پوسٹ کو ری پوسٹ کر دیا ہے۔

ٹرمپ کے شہباز شریف کی پوسٹ شیئر کرنے کے عمل کو  ایران جنگ بندی  کے مجوزہ مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی حمایت کرنے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمےکیلئے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے، وزیراعظم

ایک نیوز آؤٹ لیت نے اس خبر پر لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شہباز شریف کی ثالثی کی پیشکش کو  ایمپلیفائی کیا ہے، ج اور ایران امریکہ جنگ بندی کے  لئے  نازک سفارتی کوششوں کے درمیان مجوزہ امریکہ ایران مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے میں پاکستان کے کردار کی حمایت کرنے کا اشارہ دیا  ہے۔ 

ٹرمپ نے بحران میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کو قبول کرلیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر وزیراعظم شہباز شریف کی پوسٹ کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے مغربی ایشیا کے بحران میں پاکستان کے سفارتی دباؤ کو تیز کیا ہے، یہ اقدام اسلام آباد کی ثالثی کی پیشکش کی توثیق کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔

Caption صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی  اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی، یہ مہلت ختم ہونے سے پہلے مہلت میں پانچ دن کی توسیع کی اور اس کے بعد اب پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کرنے کی طرف جا تے نطر آ رہے ہیں۔ 

شہباز شریف نے اس سے قبل واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی سہولت کے لیے پاکستان کی تیاری کا  واضح اظلار کیا تھا۔  ایکس پر اپنی پوسٹ میں، پرائم منسٹر شہباز نے لکھا، "پاکستان خطے اور تنازعات سے باہر امن و استحکام کے مفاد میں، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے لیے جاری کوششوں کا خیرمقدم اور مکمل حمایت کرتا ہے۔"

ٹرمپ کے اس سادہ اور سٹریت فارورڈ  پیغام کو دوبارہ پوسٹ کرنے کے فیصلے نے ایک ایسے وقت میں جب سفارتی چینلز کمزور پڑے ہوئے ہیں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر پاکستان کی پوزیشن کی طرف دنیا بھر کی توجہ مبذول کرائی ہے۔

رسائی محض علامتی نہیں ہے۔ شریف نے تصدیق کی کہ انہوں نے ایران کے صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ بات کی ہے،  شہباز شریف کی طرف سے  کشیدگی کم کرنے میں اسلام آباد کی حمایت کی پیشکش کی گئی ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس اراغچی سے بھی بات چیت کی جس سے پاکستان کے تعمیری کردار ادا کرنے کے ارادے کو تقویت ملی۔

اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کے مطابق، اسلام آباد نے طویل عرصے سے کہا ہے کہ اس نے "خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مستقل طور پر بات چیت اور سفارت کاری کی وکالت کی ہے" اور "مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہمیشہ تیار ہے"۔

شہباز شریف کا اعلان کہاں سے آیا

پاکستان کے پرائم منسٹر کے ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی کرنے کے اعلان کے پیچھے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوشش کی چاڑھے تین ہفتوں پر محیط کہانی کارفرما ہے۔ پاکستان نے اپنے انتہائی قریبی، مربی عرب حلیفوں پر ایران کے براہ راست حملوں کے دوران بھی  اطراف کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے نازک سفارتی کوشش جاری رکھی، اس دوران تین روز پہلے جب ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں پر حملوں کا الٹی میٹم دیا اور ایران نے عرب ملکوں کے بجلی گھروں کے ساتھ پینے کے لئے پانی کو صاف کرنے کے پلانٹوں پر بھی حملوں کی دھمکی دی تو پاکستان کی پہلے سے جاری سفارتکاری کو آگے برھنے کی راہ مل گئی۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق عرب ملکوں نے صدر ٹرمپ پر دباؤ ڈالا کہ وہ صورتحال کو مزید تباہ کن سمت مین مت دھکیلیں اور ایران کے بجلی گھروں پر حملے کرنے سے گریز کریں۔ ٹرمپ نے دباؤ کو مان کر ایران کو بجلی گھروں پر 5 دن تک حملے نہ کرنے کی مہلت دیتے ہوئے نئے سرے سے مذاکرات کی کوشش کا اعلان کیا۔ آج شام یہ کھلا کہ مذاکرات کی یہ کوشش پاکستان کی پہلے سے جاری کوششوں کا ہی تسلسل ہے اور پاکستان ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  امریکہ کی جانب سے ایران کو پندرہ نکات مل گئے: ایرانی سینیرعہدیدار کی تصدیق