اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اہم ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس کی منطور دے دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کئی اہم ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس کی منطور دے دی۔
وزیر خزانہ اورنگزیب کی زیر صدارت قتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کئی ٹیکنیکل ضمنی گرانٹس کے معاملات پر غور کیا گیا۔
ای سی سی نے یومِ آزادی اور معرکۂ حق کی تقریبات کے لیے 1 ارب 28 کروڑ 90 لاکھ روپے منظور کئے ۔
اسلام آباد میں معرکۂ حق کی یادگار تعمیر کرنے کے منصوبے کے لیے 2 ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے۔
پاکستان آسان خدمت مرکز فیز ٹو کی تکمیل کے لیے 4.5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
ای سی سی نے سمارٹ اسلام آباد پروجیکٹ کے لیے 91 کروڑ 12 لاکھ روپے کی ری اپروپری ایشن کی بھی منظوری دے دی۔
بلوچستان میں خدمات انجام دینے والے افسران کے لیے خصوصی مراعاتی پیکیج منظور کیا گیا ہے۔
اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی نے ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز مراعاتی سکیم یکم جولائی 2026 سے ختم کرنے کی منظوری بھی دے دی۔
پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا۔ ان ملازموں کی تنخواہوں کے لئے بھی ضمنی گرانت منطور کی گئی۔
ماہی گیر کشتیوں میں ویسل مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب کے لیے 60 کروڑ روپے منظور کئے گئے۔
پاور سیکٹر کے لیے 52 ارب روپے کی ٹیکنیکل ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔
کے الیکٹرک کی سبسڈی سے 97 ارب 64 کروڑ روپے انٹر ڈسکوز ٹیرف سبسڈی میں منتقل کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی۔
فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا (نارتھ) کے لیے 25 کروڑ روپے منظور کئے گئے۔
پاکستان ریلویز کی گرانٹ اِِن ایڈ میں 7 ارب روپے اضافہ کی منطوری دی گئی۔
وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ ای سی سی نے ایف آئی اے کے ملازمین کے اخراجات کے لیے 19 کروڑ 32 لاکھ روپے منظور کئے ہیں۔
سول آرمڈ فورسز کے شہدا کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 4.2 ارب روپے منظور کئے گئے ہیں۔
ایس این جی پی ایل کے 50 ارب روپے کے فنانسنگ انتظام کے لیے خودمختار ضمانت میں توسیع دے دی گئی ہے۔