فیڈرل گرانٹس کی فراہمی پر صوبوں کا کردار لائق تحسین ہے: اسحاق ڈار

Jun 24, 2026 | 14:35:PM
فیڈرل گرانٹس کی فراہمی پر صوبوں کا کردار لائق تحسین ہے: اسحاق ڈار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ  اسحاق ڈار نے کہا کہ فیڈرل گرانٹس کی فراہمی پر صوبوں کا کردار لائق تحسین ہے، چاروں صوبوں کی طرف سے فیڈرل گرانٹس فراہم کی جائےگی،دفاع سمیت دیگر اہم معاملات کیلٖے یہ رقم خرچ کی جائےگی ۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاروں صوبوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو گرانٹس کی فراہمی قابلِ تحسین اقدام ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت کے لیے 1035 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کے استحکام اور مالی نظم و ضبط کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ چاروں صوبائی حکومتوں نے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے، جو بین الحکومتی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے، ان کے بقول اقتصادی پالیسیوں کی کامیابی کے لیے ٹیم ورک، باہمی اعتماد اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے ریونیو کلیکشن کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ مالی منصوبہ بندی 13 ہزار 350 ارب روپے کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے، اضافی مالی وسائل کو ترقیاتی منصوبوں، آبی ذخائر، قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات سمیت دیگر ترجیحی شعبوں پر خرچ کیا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں پانی، سیکیورٹی اور دفاعی ضروریات کو خصوصی اہمیت دی ہے، جبکہ قومی تقاضوں کے مطابق بعض شعبوں کے لیے اضافی وسائل بھی مختص کیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ مالی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم اور وسائل کے مؤثر استعمال سے معاشی استحکام کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:حج  آن لائن رجسٹریشن، 2 روز میں  رجسٹرڈ عازمین کی تعداد 51 ہزار سے تجاوز کر گئی

اسحاق ڈار نے اپنی تقریر میں خارجہ پالیسی اور علاقائی صورتحال کا بھی تفصیلی ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان نے ابتدا ہی سے تحمل، مذاکرات اور سفارتکاری کی حمایت کی، پاکستان نے تمام فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے رکھے اور تنازع کے پرامن حل کے لیے فعال کردار ادا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران سیزفائر اور کشیدگی میں کمی کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رہیں، پاکستان نے ایران، امریکا، قطر اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے اور دونوں جانب مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔

اسحاق ڈار کے مطابق اعلیٰ سطح مذاکرات کے متعدد ادوار منعقد ہوئے جن میں 6 باضابطہ راؤنڈز شامل تھے۔ بعض مذاکراتی سیشن 21 گھنٹے تک جاری رہے اور دوپہر سے شروع ہو کر اگلے روز فجر تک چلتے رہے،مختلف مراحل پر وقفے لے کر مشاورت کا عمل آگے بڑھایا گیا تاکہ تمام نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔