پشاور ہائی کورٹ نے ریڈیو پاکستان پشاور پر حملہ کے متعلق ریڈیو پاکستان کی درخواست خارج کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک رحمان) پشاور ہائیکورٹ نے ریڈیو پاکستان پشاور کی 9 مئی 2023 کو ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے کے متعلق صوبائی اسمبلی کے سپیکر کی بنائی ہوئی کمیٹی کے خلاف درخواست خارج کر دی۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس انعام اللہ خان نےنے آج ریڈیو پاکستان پشاور پر 9 مئی 2023 کو حملہ کے کیس اور 9 مئی واقعات پر سپیکر صوبائی اسمبلی کی تحقیقاتی کمیٹی کے خلاف ریڈیو پاکستان درخواست کی سماعت کی۔
سماعت کی۔
دو رکنی بنچ نے ریڈیو پاکستان ک پشاور ے وکیل کی درخواست خارج کر دی۔
عدالت نے قرار دیا کہ اب تک سپیکر کی کمیٹی کی کارروائی سے کیس متاثر نہیں ہوا۔ اگر کمیٹی کی کاروائی سے کیس متاثر ہوا تو عدالت سے رجوع کریں۔ یہ قرار دیتے ہوئے عدالت نے درخواست خارج کر دی۔
یہ بھی پڑھیئے: فتنۃ الخوارج کا زخمی ایف سی اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینس پر حملہ، آگ لگا کر زندہ جلا دیا
جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے کہا، عدالتیں فیصلے ریکارڈ کی بنیاد پر کریں گی، کمیٹی اپنا کام کرے، اسمبلی قراردادوں سے عدالتی فیصلوں پر اثر نہیں پڑتا۔
ریڈیو پاکستان پشاور کے وکیل نے عدالت کے روبرو دلائل میں کہا، یہ کمیٹی عدلیہ کے کام میں مداخلت ہے اور شواہد جمع کر رہی ہے۔
جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے استفسار کیا، انہوں نے عدالت کے بارے میں کچھ کہا ہے؟
سرکاری وکیل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا، عدالت کے خلاف کچھ نہیں کہا گیا۔
جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے قرار دیا کہ کمیٹی کا عدالت سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: علیمہ خان، نورین خان اور عظمی خان کا اڈیالہ جیل کے داہگل ناکے پر دھرنا
ریڈیو پاکستان پشاور کے وکیل نے کہا، سپیکر کے پاس شواہد جمع کرنے کا اختیار نہیں۔
جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے کہا، انہیں شواہد جمع کرنے دیں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہمارے ججز اتنے مضبوط ہیں کہ کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا، درخواست قبل از وقت ہے۔ کمیٹی کو کام کرنے دیں، اس سے ہمارا کچھ نہیں۔
سپیکر کی کمیٹی کے ارکان خود ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں ملزم ہیں
ریڈیو پاکستان پشاور کے وکیل نے بتایا کہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے جو "تحقیقاتی کمیٹی" بنائی ہے، اس کمیٹی کے بعض ارکان خود اس کیس میں ملزم ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ ان نکات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، ملزمان اپنی تحقیقات خود کرنا چاہتے ہیں تو کریں، اگر عدالتی کاروائی متاثر ہوئی تو پھر عدالت آئیں۔