غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کیلئے نیشنل رجسٹریشن امتحان اسٹیپ ون کے نتائج کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد تُرک)غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کیلئے نیشنل رجسٹریشن امتحان اسٹیپ ون کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا، یہ امتحان 14 دسمبر 2025 کو نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز راولپنڈی کے زیرِ انتظام منعقد کیا گیا تھا۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) کی پالیسی کے مطابق نیشنل رجسٹریشن امتحان کے تمام بنیادی مراحل، جن میں پرچہ سازی، نتائج کی تیاری اور حتمی اعلان شامل ہیں، NUMS کو سونپے گئے تھے.
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 7,076 امیدواروں نے رجسٹریشن کروائی، جن میں 6,993 میڈیکل اور 83 ڈینٹل امیدوار شامل تھے، امتحان میں 7,012 امیدوار شریک ہوئے، جبکہ 64 امیدوار غیر حاضر رہے۔
امتحان میں مجموعی طور پر 1,473 امیدوار کامیاب قرار پائے، جن میں 1,467 میڈیکل اور 6 ڈینٹل امیدوار شامل ہیں۔ میڈیکل امیدواروں کی کامیابی کی شرح 21.17 فیصد جبکہ ڈینٹل امیدواروں کی کامیابی کی شرح 7.23 فیصد رہی۔
قانون کے مطابق پی ایم ڈی سی غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے لیے سال میں دو مرتبہ نیشنل رجسٹریشن امتحان کا انعقاد لازم ہے۔ اس سے قبل 25 جون 2025 کو منعقد ہونے والے NRE میں 5,035 امیدواروں نے رجسٹریشن کروائی تھی، جن میں سے 4,994 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے۔
اس امتحان میں 1,252 امیدوار کامیاب ہوئے، جبکہ 41 امیدوار غیر حاضر رہے۔ اس مرحلے میں میڈیکل امیدواروں کی کامیابی کی شرح 25.26 فیصد رہی۔PM&DC کے مطابق حالیہ امتحان کے نتائج کونسل کی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیے گئے ہیں، جہاں ہر امیدوار اپنے رول نمبر کے ذریعے پاس یا فیل ہونے کی تفصیلات دیکھ سکتا ہے۔
نیشنل رجسٹریشن امتحان اسٹیپ-II (کلینیکل امتحان) کی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ دونوں مراحل میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو PM&DC کی جانب سے ملک کے اندر یا بیرونِ ملک ہاؤس جاب کے لیے عارضی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس جاری کیے جائیں گے۔
PM&DC نے واضح کیا ہے کہ نتائج مکمل طور پر میرٹ، معیاری پالیسی اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق مرتب کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے والدین اور طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ بیرونِ ملک میڈیکل یا ڈینٹل تعلیم حاصل کرتے وقت صرف تسلیم شدہ اور معیاری اداروں کا انتخاب کیا جائے۔
کونسل کے مطابق غیر تسلیم شدہ یا کم معیار اداروں میں داخلہ نہ صرف طلبہ کے پیشہ ورانہ مستقبل کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ قیمتی وقت، محنت اور مالی وسائل کے ضیاع کا باعث بھی بنتا ہے۔ PM&DC نے اس بات پر زور دیا کہ بروقت اور ذمہ دارانہ تعلیمی فیصلے ہی میڈیکل پیشے کے وقار اور مستقبل کے صحت کے ماہرین کے محفوظ کیریئر کی ضمانت ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق امور کا حل مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے: پاکستان