پروگرام’’نورِ سحر‘‘میں’’حضرت شیخ سعدی ؒاور حکمت و دانش‘‘پر بصیرت افروزعلمی نشست
ان کے کلام میں جو آفاقی پیغام ہے، وہ آج کے تعلیمی نظام میں شامل ہونا چاہیے،شرکاء کی گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف پروگرام ’’نورِ سحر‘‘ میں’’ حضرت شیخ سعدیؒ اور حکمت و دانش‘‘کے موضوع پر روح پرور اور بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں ممتاز اسلامی اسکالرز، محققین اور اہلِ علم نے شرکت کی۔
24نیوزکے پروگرام’’نورسحر‘‘میں میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے گفتگوکرتے ہوئےکہا کہ شیخ سعدیؒ صرف شاعر نہیں بلکہ حکمت،دانائی اور معرفت کے مینار ہیں،جب ہماری درسگاہوں میں گلستاں اور بوستاں پڑھائی جاتی تھیں تو ایسی نابغہ روزگار شخصیات جنم لیتی تھیں،لیکن زوال کا آغاز اس وقت ہوا جب مسلمانوں نے علم کو کردار اور اخلاق سے جدا کر دیا، آج تعلیم تو ہے مگر تربیت کا فقدان ہے جبکہ سعدیؒ کے نزدیک علم کے ساتھ آداب و عمل کی تربیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ زرین نازیہ نے گلستانِ سعدی کے مقدمہ سے اقتباس پیش کرتے ہوئے کہا کہ سانس اندر جاتی ہے تو زندگی باہر آتی ہے یعنی ہر سانس میں دو نعمتیں ہیں اور ہر نعمت پر شکر واجب ہے۔سعدیؒ کے اشعار عشق، عرفان اور اخلاق کا حسین امتزاج ہیں، ان کے نزدیک انسان کا اصل حسن اس کے اخلاق میں ہے نہ کہ محض علم کے دعوے میں۔
پروفیسر سلطان منیر نے کہا کہ حضرت سعدیؒ نے رشد و ہدایت کے ایسے چراغ روشن کیے جن سے امت آج بھی مستفید ہو رہی ہے، سعدیؒ کا سب سے بڑا وصف حق گوئی اور خیرخواہی تھا، اور وہ بادشاہوں کے سامنے بھی حق بات کہنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کی قیمتوں میں کمی،پنجاب حکومت نےوفاق سے رجوع کرلیا
پروفیسر ڈاکٹر مجاہد احمد نے کہا کہ شیخ سعدیؒ اللہ، رسول ﷺ اور اولیاء تینوں کے محبوب بندے تھے۔ ان کی تصانیف گلستاں و بوستاں علم، ادب، اخلاق، سیاست، عشقِ رسول ﷺ اور انسان دوستی کا جامع مرقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعدیؒ کے کلام میں جو آفاقی پیغام ہے، وہ آج کے تعلیمی نظام میں شامل ہونا چاہیے، اقوامِ متحدہ کی عمارت پر کندہ وہ قول ’’تمام انسان ایک جسم کی مانند ہیں‘‘ دراصل اسی حدیثِ نبوی ﷺ کا ترجمہ ہے جسے شیخ سعدیؒ نے اپنے اشعار میں پیش کیا تھا۔