مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے کافی قریب ہیں: ٹرمپ کی تصدیق

May 23, 2026 | 22:28:PM
مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے کافی قریب ہیں: ٹرمپ کی تصدیق
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے ’کافی قریب‘ پہنچ چکے ہیں۔

 سی بی ایس نیوز  سے  انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ حتمی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور یہ بھی یقینی بنائے گا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو ’تسلی بخش انداز میں سنبھالا جائے‘۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’میں صرف ایسے معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جو ہم چاہتے ہیں‘۔

امریکہ ایران جنگ بندی کے معاہدہ کے زیر غور ڈرافٹ میں آبنائے ہرمزکوکھولنا، بعض ایرانی اثاثے بحال کرنا اور مذاکرات جاری رکھنا شامل ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سی بی ایس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں معاہدہ ہونے کے متعلق  گفتگو سے پہلے پاکستان میں آئی ایس پی آر بتا چکا ہے کہ  فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران میں حتمی مفاہمت کی طرف حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔ اس کے بعد تہران مین ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ تہران میں معاہدہ کے ڈرافٹ پر کام تکمیل کے قریب ہے۔ 
 
اس سے پہلے ایک اور انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ  ایران کی جانب سے نئی پیشکش آئی ہے اور وہ ایران کی نئی  پیشکش پر اپنے مذاکراتی نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور امکان ہے کہ اتوار تک یہ فیصلہ کر لیں گے کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا نہیں۔

اس دوران امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسئیس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ اس بات کے ’ففٹی ففٹی‘ امکانات ہیں کہ یا تو وہ ایک ’اچھا‘ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر ایران کو ’مکمل طور پر تباہ کر دیں گے‘۔

انہوں نے بتایا کہ وہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے تازہ ردعمل پر بات چیت کی جا سکے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کی بھی اس ملاقات میں شرکت متوقع ہے۔

صدر ٹرمپ  نے کہا کہ ’میرے خیال میں دو میں سے ایک چیز ہوگی، یا تو میں انہیں پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے نشانہ بناؤں گا یا ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے‘۔

ٹرمپ نے یہ بھی  کہا کہ ’کچھ لوگ معاہدہ چاہتے ہیں جبکہ کچھ جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حق میں ہیں‘، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اس بات پر فکرمند ہیں کہ وہ کوئی ناموافق معاہدہ کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:   ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت ہونے والی ہے، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ 

ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ صرف ایسا معاہدہ قبول کریں گے جس میں یورینیم کی افزودگی اور ایران کے موجودہ یورینیم ذخائر جیسے معاملات شامل ہوں۔

ویب سائٹ کے مطابق ان امور کا کسی تفصیل کے ساتھ حل ہونا اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ممکن نظر نہیں آتا جس پر امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس تجویز کے تحت دونوں ممالک جنگ کے خاتمے پر اتفاق کریں گے اور مزید تفصیلی مذاکرات کے لیے 30 دن کی مدت طے کریں گے۔

یہ بھی پڑھیئے:   ایران کے ساتھ معاہدے کے فریم ورک کی ڈرافٹنگ کو حتمی شکل دے رہے ہیں ، ایران