سائبر کرائم انویسٹی گیشن کے 100 سے زائد ملازمین کی مستقلی ، فیصلہ محفوظ کر لیاگیا

Feb 23, 2026 | 14:14:PM
 سائبر کرائم انویسٹی گیشن کے 100 سے زائد ملازمین کی مستقلی ، فیصلہ محفوظ کر لیاگیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احتشام کیانی)اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی  کے ایک سو سے زائد ملازمین کی مستقل ملازمت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ ملازمین کو پانچ سات سال کام کرنے کے بعد صرف ایک ماہ کے نوٹس پر فارغ کرنا ریاست کی جانب سے استحصال کے مترادف ہے۔

 ریمارکس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ حکومت کیوں لوگوں کو مسلسل کنٹریکٹ پر بھرتی کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ محض سیاسی طور پر نشانہ بنانے کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔

 جسٹس کیانی نے کہا: "ابھی کہہ رہے ہیں رولز بننے ہیں، عدالت کی ڈائریکشن کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے، اپنے منظورِ نظر افراد کو پروموٹ کر دیتے ہیں، پھر متاثرہ شخص عدالت آ جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کر کے نیا اشتہار دیا جائے تو یہ ان کے لیے سب سے بڑا ظلم ہوگا۔

مزید پڑھیں:پنجاب پولیس میں اہم اصلاحات متعارف

عدالت کے مطابق موجودہ حکومت 402 پوسٹوں پر اپنی مرضی کی تعیناتیاں کر سکتی ہے، لیکن ہر بار ہونے والی زیادتی کے تدارک کے لیے اس معاملے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

جسٹس کیانی نے سائنس میں ماسٹرز ڈگری رکھنے والے افراد کے بارے میں بھی نوٹ کیا کہ انہیں انسپکٹر بھرتی کر کے ٹریننگ دی گئی۔

 اور صرف اس لیے کہ وہ کنٹریکٹ ملازم تھے، انہیں نکالنا انصاف کے خلاف ہے۔

 انہوں نے کہاآج کے دور میں کسی کو نوکری سے فارغ کرنے سے بڑا ظلم کوئی نہیں ہے، اگر تعلیمی معیار پی ایچ ڈی کر دیا جائے تو یہ لوگ فیل ہو جائیں گے۔

عدالت نے اس کیس میں ملازمین کے حق میں رہنمائی فراہم کرنے اور حکومت کو کنٹریکٹ ملازمین کے تحفظ کے لیے محتاط رہنے کی ہدایت دی۔