جہانگیرترین کا سیلاب متاثرین کیلئے 5 کروڑ روپے امداد کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)جہانگیر ترین خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے سرگرم ہو گئے،سیلاب متاثرین کیلئے 5 کروڑ روپے امداد کا اعلان کر دیا۔
جہانگیر ترین نے کہا کہ بونیر،باجوڑاورسوات میں عملی طور پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،سیلاب متاثرین میں راشن، ادویات،کھانا، کمبل، بستر، کچن سیٹ ودیگر اشیاکی تقسیم جاری ہے،سیلاب متاثرہ بہن بھائیوں کی مدد کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی،مشکل گھڑی میں سیلاب متاثرہ بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں،بحالی کیلئے ہرممکن وسائل بروئے کارلائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کا یکساں ’’ماہانہ ٹیرف لاگو ‘‘ منظوری بھی دیدی گئی
دوسری جانب ملک بھر میں آج سے 30 اگست تک پھرموسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کر دی گئی ، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا،محکمہ موسمیات نے پنجاب ، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف مقامات پر طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔
چترال ، سوات ، شانگلہ بونیر ، ایبٹ آباد ، نوشہرہ اور صوابی کے ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ،اس کے علاوہ لاہور، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے رابطہ سڑکیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اس کے علاوہ خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں وبائی اور موسمی امراض تیزی سے پھیلنے لگے ہیں۔
محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں پیٹ و آنتوں کی بیماریوں، ہیضہ، ملیریا، ڈینگی، جلدی امراض اور سانس کی بیماریوں کے ہزاروں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق صرف ڈائریا کے 11 اضلاع سے 2 ہزار 506 کیسز رپورٹ ہوئےدیئر لوئر میں 823، سوات سے 591، بونیر سے 319 اور باجوڑ سے 262 کیسز شامل ہیں۔
دیگر اضلاع میں بھی درجنوں کیسز سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں خونی پیچش کے 116 مریض جبکہ ملیریا کے 123 کیسز رپورٹ ہوئے۔
محکمہ صحت کے مطابق ڈینگی کے بھی 15 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں صوابی میں 8، دیر لوئر میں 6 اور باجوڑ میں ایک کیس شامل ہے۔
متاثرہ علاقوں میں خارش اور دیگر جلدی امراض کے سینکڑوں مریض بھی سامنے آئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق تورغر میں 172، دیر لوئر میں 125 اور شانگلہ میں 128 جلدی امراض کے مریض رجسٹرڈ ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سانپ اور کتوں کے کاٹنے کے 35 سے زائد واقعات پیش آ چکے ہیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں نزلہ، زکام اور سانس کی بیماریوں کے 2 ہزار 245 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔
سیکریٹری صحت شاہد اللہ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں محکمہ صحت کی ٹیمیں اور موبائل اسپتال موجود ہیں اور ایک لاکھ 64 ہزار سے زیادہ مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سانپ اور کتوں کے کاٹنے کی ویکسین متاثرہ اضلاع میں بھیج دی گئی ہیں ۔
نفسیاتی امراض میں اضافے کے باعث ماہرینِ نفسیات پر مشتمل ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں۔