’’بھارتی ادارے کی درسی کتابوں میں ترامیم تاریخ کو مسخ کر کے ہندوتوا نظریہ تھوپنے کی کوشش‘‘
مغلوں کو ظالم قرار دینا تاریخی بددیانتی ، اکبر دور میں ایک قتلِ عام کو نمایاں کرنا اور بنگال میں مرہٹوں کے مظالم کو غائب کر دینا انصاف کے خلاف، پروفیسر سلیم انجینئر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)بھارت کے ادارے نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ ایند ٹریننگ (این سی ای آر ٹی ) کی درسی کتابوں میں ترامیم تاریخ کو مسخ کر کے ہندوتوا نظریہ تھوپنے اور ہندوستانی تنوع و جمہوری اقدار کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش ہے۔این سی ای آر ٹی ماضی کو ازسرنو لکھ رہی ہے لیکن مستقبل سے غداری کر رہی ہے۔پروفیسر سلیم انجینئرنائب صدر جماعتِ اسلامی ہند اور چیئرمین مرکزی تعلیمی بورڈ کا کہنا ہےکہ تاریخ کی درسی کتابوں کی نظرثانی قومی تعلیمی تحقیقی و تربیتی کونسل (NCERT) کی جانب سے حکومتِ ہند کی ہدایات کے تحت بڑے جوش و خروش سے کی جا رہی ہے۔ کسی بھی نونیشنلزم پر مبنی حکومت کے تحت تاریخ کی درسی کتابوں کی ازسرِنو تدوین کبھی بھی ایک سادہ، غیرجانبدار اور ایماندار علمی مشق نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کا خارج کنندہ ’’ہندوستانی نظریہ‘‘ دراصل ہندوستان کے آئین کے بانی اصولوں پر مبنی شمولیت پسند نظریے کے بالکل برعکس ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق پروفیسر سلیم انجینئر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ تاریخ وہ پہلا سبق ہے جو بچوں کو ان کی شناخت دیتا ہے۔ یہ مستقبل کے شہریوں کے لیے اخلاقی کائنات کو تشکیل دیتا ہے۔ اسی لئے این سی ای آر ٹی کی جانب سے حالیہ ترامیم جن میں قرونِ وسطیٰ کی تاریخ میں مغلوں کے کردار کو کم کرتے ہوئے ہندو حکمرانوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، محض نصابی کتابوں میں تبدیلی نہیں ہیں بلکہ یہ دراصل ہندوستان کی اخلاقی اور سیاسی سوچ کو دوبارہ تشکیل دینے کی کوشش ہے۔اس منصوبے کے بنیادی تصور میں ایک خطرناک مغالطہ چھپا ہوا ہے۔ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ “ہم لوگ” کی قومیت کو محض تاریخ کو ہیروز اور ولن کی کہانیوں میں بانٹ کر دوبارہ متعین کیا جا سکتا ہے۔ مغل بادشاہوں کو لازماً ظالم حملہ آور، مندروں کو ڈھانے والے اور جابر حکمرانوں کے طور پر پیش کیا جائے۔ ہندو بادشاہوں کو روایات اور رواداری کے محافظ قرار دیا جائے۔ یوں ہندوستانی تاریخ کا بڑا سبق ہندو خوبی کو مسلمان بربریت کے محاصرے میں دکھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ سب سیاست کی خدمت میں ایک افسانہ سازی ہے۔
تمام تہذیبوں کو تشدد کا سامنا رہا ہے۔ مغلوں کو منفرد طور پر ظالم قرار دینا تاریخی بددیانتی ہے۔ مورخین یاد دلاتے ہیں کہ فتوحات، مندروں کی تباہی اور سیاسی جبر ہر دور کے حکمرانوں کی زبانِ اقتدار تھی، خواہ وہ ہندو ہوں، بدھ مت کے پیرو ہوں یا مسلمان۔ چولوں، پالاوں اور کشمیر کے حکمرانوں نے ایسے کئی تشدد کے ریکارڈ چھوڑے ہیں جو کبھی کبھی مغلوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔ لیکن این سی ای آر ٹی کی کتابیں ان واقعات پر خاموش ہیں۔ مثال کے طور پر اکبر کے 45 سالہ دور میں ایک قتلِ عام کو نمایاں کر دینا اور بنگال میں مرہٹوں کے مظالم کو غائب کر دینا انصاف کے خلاف ہے۔یہ تحریفات اس لیے بھی خطرناک ہیں کیونکہ تاریخ محض ماضی کے بارے میں نہیں ہوتی بلکہ اس کا تعلق مستقبل کے سیاسی و اخلاقی نظریے سے ہوتا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی سب سے بڑی کامیابی صرف سیاسی آزادی نہیں بلکہ ایک اخلاقی وژن کی تشکیل تھی۔ہمارے آئین سازوں نے جس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا وہ محض نقشے پر کھینچی گئی سرحدوں کا ملک نہیں تھا بلکہ ایسا ملک تھا جو اپنی تنوع اور کثرتیت پر مضبوطی سے قائم رہے۔ اس خواب کی جڑیں ہماری مشترکہ ثقافت میں پیوست تھیں۔ وہی ثقافت جس میں فارسی کی نفاست، سنسکرت کی روایت، اسلامی فکر اور مقامی زبانوں کا ذائقہ مل کر ایک ایسی تہذیب بناتے ہیں جس میں ہم سب سانس لیتے ہیں۔ ہمارے ملک کی بنیاد تمام مذاہب، نظریات، ثقافتوں، زبانوں اور خطوں کے احترامِ مساوات پر ہے۔ اگر کسی ایک مخصوص ثقافت، زبان یا مذہب کی بالادستی سب پر تھوپی جائے اور تنوع و شناختوں کو یکسانیت سے مٹا دیا جائے تو ہندوستان اور ’’ہندوستانیت‘‘ کی جڑیں ہل جائیں گی۔
تاریخ کو پہلے سے طے شدہ ایجنڈے کے مطابق لکھنا دراصل تنگ نظر اور خارج کنندہ ہندوتوا نظریے کو وسیع ہندوستانیت پر زبردستی تھوپنے کے مترادف ہے۔ یہ آئین میں بیان کردہ اصل ’’ہندوستانی نظریہ‘‘ کو الٹ دینے جیسا ہے۔تاریخی نصاب کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہماری نوجوان نسل کو یہ بتائے کہ موجودہ سماج کس طرح ارتقا پذیر ہوا۔ طلبہ کو ایک غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی تصویر ملنی چاہیے تاکہ وہ بڑے واقعات اور عوامل کو سمجھ سکیں جو قوم کی تشکیل کے ذمے دار ہیں۔ یہ کتابیں طلبہ کو سوچنے، تجزیہ کرنے اور معاشرے کے مستقبل کے لیے سبق سیکھنے کے قابل بنائیں۔ان ترامیم کے حامی کہتے ہیں کہ مغلوں کو نصابی کتابوں میں ضرورت سے زیادہ جگہ دی گئی تھی اور قدیم ہندو سلطنتوں کو حاشیے پر ڈال دیا گیا تھا۔ اس دلیل میں کچھ وزن ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمارا نصاب ہندوستان کی تمام تہذیبی کامیابیوں کا حق ادا نہیں کر سکا۔ لیکن اصلاحات الزام تراشی سے نہیں ہو سکتیں۔ تاریخ کو سمجھا جانا چاہیے، نفرت نہیں کی جانی چاہیے۔ ایک متوازن اور حقائق پر مبنی نقطۂ نظر یہ ہوگا کہ نہ تو بڑائی بیان کی جائے اور نہ شیطانی تصویر کشی۔ طلبہ کو مغلوں کی عظیم الشان تعمیرات دکھائی جائیں اور ان کی سخت پالیسیوں سے بھی آگاہ کیا جائے۔ اکبر کے مذہبی رواداری کے تجربات کو اس کی فوجی مہمات کے ساتھ رکھا جائے۔
نصاب میں ٹیپو سلطان اور دارا شکوہ جیسے حکمران بھی شامل ہوں جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں مزاحمت اور تکثیریت کا راستہ دکھایا۔ شیر شاہ سوری کو انتظامی اصلاحات کے لیے یاد کیا جائے، ابوالفضل کو فکری ورثے کے لیے۔ تبھی ہماری نئی نسل یہ سیکھ سکے گی کہ ہندوستانی تہذیب کسی ایک مذہب یا روایت سے نہیں بنی بلکہ یہ پیچیدگیوں، تنوع اور مکالمے سے تشکیل پائی ہے۔ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ سچائی کی تلاش نہیں بلکہ ایک ’’قابلِ استعمال ماضی‘‘ کی تعمیر ہے۔ ہندو حکمرانوں کو شرافت کا نمونہ اور مسلمان حکمرانوں کو وحشی کے طور پر پیش کر کے یہ کتابیں فرقہ پرستی کا نصاب بن جاتی ہیں۔ یہ بچوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ ان کا معاشرہ طے شدہ شناختوں کی جنگ ہے، جہاں ایک برادری ہمیشہ مظلوم ہے اور دوسری ہمیشہ ظالم۔ ایسے اسباق اگر بچپن میں ذہن نشین کر دیے جائیں تو انہیں بھلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایک 13 سالہ بچہ جو یہ سیکھے کہ ’’مسلم حکمران ظالم تھے‘‘ وہ اس مورخ کو نہیں پڑھے گا جو یہ یاد دلاتا ہے کہ تشدد ہر جگہ تھا، اور نہ ہی وہ یہ نوٹ کرے گا کہ کیرالہ اور بنگال ، جہاں مغلوں کا زیادہ کنٹرول نہیں تھا ۔ آج سب سے زیادہ مسلم آبادی والے علاقے ہیں۔ یوں بچپن میں ڈالا گیا تعصب آہستہ آہستہ ایک ورلڈ ویو میں بدل جاتا ہے۔ ایسا ورلڈ ویو جس میں نفرت پروان چڑھتی ہے اور جمہوری اقدار اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو کھا جاتی ہے۔یہ تدریس اور پروپیگنڈے کا ملاپ ہے جو فرقہ واریت کو انہی ذہنوں میں جمانے کا خطرہ رکھتا ہے جنہیں جمہوریت کے لیے کھلا اور تنقیدی ہونا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ ہر حکومت نے تاریخ کو اپنی طرف جھکانے کی کوشش کی۔ لیکن آج کا فرق یہ ہے کہ صرف جھکاؤ نہیں بلکہ علمی دیانت کا ترک کیا جا رہا ہے۔ پہلے کبھی نصاب نے کانگریس کی حمایت کی یا کچھ ناپسندیدہ واقعات کو کم کر کے دکھایا ہوگا، لیکن انہوں نے جھوٹ کو متعارف نہیں کرایا۔
آج دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آریائی یلغار محض ’’ایک نظریہ‘‘ ہے یا یہ کہ جزیہ مذہبی تبدیلی کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ یہ تعبیرات نہیں بلکہ صریحاً جعلی دعوے ہیں۔ جمہوریت متنازعہ تعبیرات کے ساتھ زندہ رہ سکتی ہے لیکن جھوٹ کی ادارہ جاتی شکل کے ساتھ نہیں۔آخر داؤ پر کیا لگا ہوا ہے؟ داؤ پر صرف تاریخی درستگی نہیں بلکہ جمہوریہ کا اخلاقی قطب نما ہے۔ ایک کثیرالمذہبی معاشرہ انتقام اور مظلومیت کے افسانوں پر قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ صرف ماضی کے ساتھ ایماندارانہ حساب کتاب سے چل سکتا ہے ۔ ایسا حساب کتاب جو عظمت اور بربریت، ہم آہنگی اور جبر، ہر کمیونٹی میں تسلیم کرے۔تاریخ کا مقصد نہ تو فخر پیدا کرنا ہے اور نہ شرمندگی، بلکہ سمجھ بوجھ پیدا کرنا ہے۔ ایک بچے کو یہ سکھانا کہ اس کے اجداد یا تو صرف مظلوم تھے یا صرف ظالم، اسے ہمدردی کے امکان سے محروم کرنا ہے، جبکہ ہمدردی ہی شہریت کی بنیاد ہے۔ ایک قوم جو اپنے ماضی کو سنسر کرتی ہے وہ کبھی جمہوری مستقبل کا تصور نہیں کر سکتی۔اپنے بچوں کی خاطر ہندوستان کو منتخب یادداشت کے لالچ سے بچنا ہوگا۔ تاریخ کی دیانت دراصل جمہوریت کی دیانت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان سے پاکستان کی درآمدات میں ماہانہ بنیاد پر 50 فیصد اضافہ