ہانگ کانگ حکومت کا شرح پیدائش بڑھانے کیلئے منفرد اقدام
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ہانگ کانگ حکومت نے شہر میں شرحِ پیدائش بڑھانے کے لیے 2023 سے اب تک نوزائیدہ بچوں کے والدین کو مجموعی طور پر 18 کروڑ ہانگ کانگ ڈالر کے ’بے بی بونس‘ ادا کیے ہیں، حکومت اب بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس مراعات بھی متعارف کرا رہی ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق ہانگ کانگ کے محنت و بہبود کے سیکریٹری کرس سن یوک ہان نے قانون ساز کونسل میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ 31 مئی 2026 تک ہانگ کانگ خصوصی انتظامی خطے کی حکومت 71 ہزار 866 نوزائیدہ بچوں کے والدین کو ایک مرتبہ ملنے والا 20 ہزار ہانگ کانگ ڈالر کا بونس فراہم کر چکی ہے۔
مزید پڑھیں:قطر کے راس لفان گیس کمپلیکس میں دھماکا،54 افراد زخمی،18لاپتہ
واضح رہے کہ 2024 میں ہانگ کانگ کی شرحِ افزائشِ نسل صرف 0.841 ریکارڈ کی گئی تھی،یہ سکیم اکتوبر 2023 میں چیف ایگزیکٹو جان لی کا-چیو کی جانب سے اعلان کردہ اقدامات کے تحت شروع کی گئی تھی، جس کا مقصد جوڑوں کو زیادہ بچوں کی پیدائش کی ترغیب دینا اور شہر میں انتہائی کم شرحِ افزائشِ نسل کو بہتر بنانا تھا۔
بیبی بونس پروگرام رواں سال اکتوبر میں ختم ہونے والا ہے، تاہم حکومت اس سکیم کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے، حکومت بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس مراعات بھی متعارف کرا رہی ہے۔
جن کے تحت نومولود بچوں کے لیے اضافی چائلڈ الاؤنس کے دعوے کی مدت میں توسیع اور بنیادی و اضافی چائلڈ الاؤنس کو بڑھا کر 1 لاکھ 40 ہزار ہانگ کانگ ڈالر کیا جائے گا۔