’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا نعرہ نہ لگانے پر مقبوضہ کشمیر کے شال فروش سے بدسلوکی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)بھارت کی ریاست ہماچل پردیش کے کانگڑا ضلع کے ڈیرہ علاقے میں روزی روٹی کمانے آئے مقبوضہ کشمیر کے کپواڑہ کے ایک شال فروش کو نہ صرف دھمکایا گیا بلکہ زبردستی ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ بھیڑ نے اس معصوم تاجر کو الٹی میٹم دیدیا کہ اگر اسے کاروبار کرنا ہے تو ان کی شرائط پر اپنی حب الوطنی ثابت کرنی ہوگی، ورنہ ریاست چھوڑنی ہوگی۔ اس نے زبردستی نعرہ لگانے سے انکار کیا، جس کے بعد اس کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔
میڈیا رپورٹ کےمطابق بھارتی ریاست ہماچل پردیش سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے آئینی حقوق اور انسانیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ہماچل کے کانگڑا ضلع کے ڈیرہ علاقے میں روزی روٹی کمانے آئے شمالی کشمیر کے کپواڑہ کے ایک شال فروش کو نہ صرف دھمکایا گیا بلکہ زبردستی “بھارت ماتا کی جئے” کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔بھیڑ نے اس معصوم تاجر کو الٹی میٹم دے دیا کہ اگر اسے کاروبار کرنا ہے تو ان کی شرائط پر اپنی حب الوطنی ثابت کرنی ہوگی، ورنہ ریاست چھوڑنی ہوگی۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد کی تذلیل نہیں بلکہ اُس “آئیڈیا آف انڈیا” پر حملہ ہے جو تنوع اور احترام کی بات کرتا ہے۔کانگڑا کے ڈیرہ علاقے میں جب یہ کشمیری تاجر اپنی محنت اور ہنر کی بنی ہوئی شالیں فروخت کر رہا تھا، تب کچھ لوگوں نے اسے گھیر لیا۔ اسے ڈرایا دھمکایا گیا اور بے دخلی کی دھمکی دی گئی۔ تاہم اس تاجر نے صاف کہا کہ وہ بھارت سے محبت کرتا ہے، مگر آئین اسے اپنی مرضی سے حب الوطنی کے اظہار کا حق دیتا ہے۔ اس نے زبردستی نعرہ لگانے سے انکار کیا، جس کے بعد اس کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر خوہامی نے بتایا کہ اس سال ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری تاجروں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات میں یہ پندرہواں واقعہ ہے۔ یہ اعداد و شمار خوفناک ہیں اور ایک ایسے پیٹرن کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں روزگار کیلئے نکلنے والے کشمیریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کاآئین کسی بھی شہری کو کسی خاص نعرے لگانے پر مجبور نہیں کرتا۔ خوف اور دھمکی کے ذریعے حب الوطنی مسلط کرنا مکمل طور پر غیر آئینی اور توہین آمیز ہے۔ یہ جمہوریت کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ ایک طرف جہاں کشمیر کو مکمل طور پر قومی دھارے سے جوڑنے کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، وہیں دوسری طرف ملک کے دیگر حصوں میں کشمیریوں کے ساتھ بدسلوکی ان دعوؤں اور بھائی چارے کو نقصان پہنچاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کی خاص کامیابی۔۔عمران خان کے برابر آگئے