بھارت کی جمہوریت کا کالا چہرہ بے نقاب!
Stay tuned with 24 News HD Android App
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دھنڈورا پیٹنے والے بھارت کے سیاستدان مجرم نکلے ، حکمران جماعت بی جے پی کے رہنماؤں سمیت 28 میں سے 14 وزرائے اعلیٰ اور 326 ارکان پارلیمنٹ کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج ہیں، کیا بھارت کی جمہوریت ’مجرمانہ‘ ہے؟ اور کیا مجرموں پر مشتمل بھارتی سیاسی نظام کی صفائی ممکن ہو سکتی ہے؟
بھارتی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق لوک سبھا کے 543 ارکان میں سے 251 ارکان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں ، ان میں سے 170 ارکان ایسے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں 5سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب راجیہ سبھا کے 233 ارکان میں سے 75 ارکان کے خلاف فوجداری مقدمات موجود ہیں ،جبکہ ان میں سے 40 ارکان کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں ،،،یعنی بھارت کے دونوں ایوانوں کو ملا کر 326 موجودہ ارکانِ پارلیمنٹ ایسے ہیں جن کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہونے کی بات رپورٹ میں کی گئی ہے۔
یہ کہانی صرف بھارتی پارلیمنٹ تک ہی محدود نہیں بلکہ رپورٹ میں بھارت کے 14 وزرائے اعلیٰ کے خلاف درج مقدمات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ ’اے۔ ریونت ریڈی‘ کے خلاف 89 مقدمات درج ہونے کی بات سامنے آئی ہے، مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سُویندو ادھیکاری کے خلاف 29 اور کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے خلاف 19 مقدمات رپورٹ کیے گئے ہیں۔
اب ذرا بھارتی ریاستوں کی صورتحال بھی دیکھتے ہیں کہ کن اراکین کے خلاف مقدمات درج ہیں۔
کیرالہ کی بات کریں تو وہاں 20 میں سے 19 ارکان اسمبلی کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں، یعنی کیرالہ کے تقریباً 95 فیصد اراکین مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں سے 11 ارکان سنگین مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ،،، تلنگانہ میں 17 میں سے 14، یعنی 82 ارکان کے خلاف مقدمات ہیں ،،، اوڈیشہ میں یہ شرح 76 فیصد،جھاڑ کھنڈ میں 71 فیصد اور تمل ناڈو میں 67 فیصد ہے جبکہ اتر پردیش، مہاراشٹرا، مغربی بنگال، بہار، کرناٹک اور آندھرا پردیش جیسی بڑی ریاستوں میں بھی تقریباً نصف اراکین اسمبلی کے خلاف فوجداری مقدمات ہونے کی بات رپورٹ میں کی گئی ہے
دوسری طرف ہریانہ کے 10 میں سے صرف ایک اور چھتیس گڑھ کے 11 میں سے صرف ایک رکنِ پارلیمنٹ کے خلاف مقدمہ رپورٹ ہوا ۔
پنجاب میں 13 میں سے 2 ارکان، آسام میں 14 میں سے 3، دہلی میں 7 میں سے 3، راجستھان میں 25 میں سے 4، گجرات میں 25 میں سے 5 اور مدھیہ پردیش میں 29 میں سے 9 اراکین کے خلاف فوجداری مقدمات بتائے گئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جس جمہوریت کا دنیا بھر میں ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اگر اسی کے ایوانوں میں اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کا سامنا کرنے والے سیاستدان موجود ہوں تو کیا اسے واقعی ایک صاف شفاف جمہوریت کہا جا سکتا ہے؟ یا پھر بھارت کے سیاسی نظام کی صفائی محض نعروں تک محدود ہے؟
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر